Manifesto Hizb ut-Tahrir Pakistan 2013
Media Office Hizb ut-Tahrir Pakistan

Manifesto Urdu

1434 ہجری 2013 ئ

حزب التحریر ولایہ پاکستان

 

خلافت کے قیام

کی عالمگیر تحریک میں

حزب التحریر کے ساتھ

شامل ہو جائیں

 

فہرست

            پیش لفظ

            نظامِ حکومت

            اقتصادی نظام

            عدلیہ

            معاشرتی نظام

            میڈیا اور اطلاعات

            خارجہ پالیسی

            داخلہ پالیسی

            تعلیمی پالیسی

            حزب التحریر کا تعارف

            پاکستان کے مسلمانوں کو حزب التحریر کی پُرزور دعوت

 

پیش لفظ

ترقی کا واحد راستہ - اسلام کا بطورِ آئیڈیالوجی نفاذ

ہمارا بنیادی مسئلہ اسلام کا عدم نفاذ ہے:

            مجموعی طور پر روئے زمین پر موجود کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ رقبے، مادی وسائل، افرادی قوت اور ذہین افراد رکھنے کے باوجود مسلمان آج انتہائی کمزور اور پست حالت میں ہیں۔ وہ ساٹھ سے زیادہ ممالک میں تقسیم ہیں اور ان کا اپنے امور پر اختیار اُن ممالک سے بھی کم ہے جو اس قدر چھوٹے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر بمشکل دکھائی دیتے ہیں۔

            پاکستان اس صورتِ حال سے مستثنا نہیں۔ دنیا کی ساتویں بڑی فوج، ایٹمی ہتھیار، چھٹی بڑی آبادی اور زرخیز زرعی میدان اور مختلف انواع کی معدنیات رکھنے کے باوجود پاکستان کی صورتِ حال یہ ہے کہ وہ محض بیرونی طاقتوں کے ارادوں اور منصوبوں کا غلام ہے اور اپنی قابلیتوں کو احسن طریقے سے بروئے کار لانے سے قاصر ہے۔

            وہ بنیادی مسئلہ جس سے امتِ مسلمہ دوچار ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا اقتدارِ اعلیٰ امت کی زندگی سے غائب ہے۔ بلاشبہ اگر ایک یا ایک سے زائد مضبوط مسلم ممالک ریاستِ خلافت کی شکل میں یکجا ہو جائیں کہ جہاں پر اسلام کو نافذ کیا جائے، تو یہ امر پورے عالمِ اسلام کو دنیا کی طاقتور ترین ریاست کی شکل میں دوبارہ وحدت بخشنے کا نقطہ آغاز ہو گا۔

            اس بنیادی مسئلے نے ہی اُن جزوی مسائل کو جنم دیا ہے جنہیں ہم سب محسوس کر رہے ہیں مثلاًسیاسی عدم استحکام، مسلمانوں کی عدم وحدت، غربت، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، امتِ مسلمہ کے وسائل پر استعمار کا تسلط، اسلامی علاقوں پر دیگر اقوام کا قبضہ، ناخواندگی، بری اخلاقی اقدار کی ترویج وغیرہ۔

            بلاشبہ پچھلی چھ دہائیوں کے دوران جو بھی حکمران اقتدار میں آئے، خواہ جمہوری انتخابات کے ذریعے آئے ہوں یا فوجی انقلاب کے ذریعے، ان سب کے ادوار میں اسلام کی عدم موجودگی نے پاکستان کے مسلمانوں کو سختی، مشکلات اور زبوں حالی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں پہلے ہی اس صورتِ حال سے آگاہ کر دیا ہے، ارشاد فرمایا:

وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا

"اور جو میرے ذکر (اسلام) سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگ ہو جائے گی" (طٰہٰ:123-124(

            آمریت اور جمہوریت دونوں ہی کا ناکام ہونا ایک لازمی امر تھا کیونکہ یہ دونوں نظام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بجائے انسان کو حلال و حرام کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ پس وہ معاملات جو اسلام میں واضح طور پر حرام ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں پاکستان کا موجودہ نظام ان کی اجازت دیتا ہے، جیسے سود، فحاشی کا پھیلائو، مسلمانوں کے خلاف کفار کے ساتھ جنگی تعاون۔ جبکہ وہ معاملات جو واضح طور پر فرض ہیں وہ موجودہ نظام میں معطل ہیں جیسے اسلامی سرزمین کو کفار سے آزاد کرانا، حدود اللہ کا نفاذ، مسلمانوں کے خون اور عقیدے کی حفاظت کرنا، مسلمانوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا۔ نتیجتاً ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال دیا اور کفریہ قوانین کو مسلمانوں کی گردنوں پر نافذ کیا گیا۔ اور مسلمانوں کو اپنے معاملات ان قوانین کے مطابق چلانے پر مجبور کیا گیا۔

            پاکستان کا موجودہ نظام کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ نظام مسلمانوں کے عقیدۂ اسلام سے ہی متصادم ہے۔ مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ یہ نظام انہیں سب سے قیمتی چیز یعنی اللہ کے دین سے دور کر رہا ہے بلکہ اس نظام نے اسلام کے خلاف ایک منظم جنگ شروع کر رکھی ہے۔

            انگریز کے چھوڑے ہوئے اس استعماری نظام کو لوگوں کے لیے قابلِ قبول بنانے اور عوام کو اس نظام میں شامل کرنے کے لئے 1973 کے آئین میں کچھ شقیں داخل کی گئیں تاکہ اس آئین کے سیکولر ہونے پر پردہ ڈالا جاسکے اور مخلص مگر سادہ لوح لوگوں کو یہ تاثر دیا جاسکے کہ اب یہ سیکولر نظام اسلامی نظام میں تبدیل ہوگیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں رائج آئین سے جنم لینے والا یہ نظام سراسر غیر اسلامی ہے کیونکہ یہ قرآن و سنت سے اخذ کردہ نہیں اور یہ اپنی بنیاد اور تفصیلات دونوں لحاظ سے اسلام سے متناقض ہے۔ موجودہ نظام کی جزئی تفصیلات میں جائے بغیر محض اس نظام کے نفاذ سے پیدا ہونے والے ثمرات سے ہی یہ بات عیاں ہے کہ یہ نظام ایک سیکولر کفریہ نظام ہے جہاں اسلامی قوانین محض خاموش تماشائی ہیں اور عوام کے نام نہاد نمائندے کسی بھی سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کے مجاز ہیں۔

صرف اسلام ہی مسلمانوں کو پستی سے نکال کر ترقی وبلندی کی راہ پر ڈال سکتا ہے:

            ہمارا ایمان ہے کہ امت یکسو ہوکر تخلیقی کاموں میں اس وقت مصروفِ عمل ہوگی اور بھر پور جذبے کے ساتھ اسی وقت متحرک ہوگی جب اس پر نافذ ہونے والا نظام امت کے عقیدہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور مکمل مطابقت رکھتا ہو۔ ماضی میں جب یہ صورتِ حال موجود تھی تو اس وقت مسلمان بامِ عروج پر تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست کے قیام سے لے کر ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک مسلمان تما م دنیا کے لیے مینارۂ نور اور قابلِ رشک مثال تھے۔ اسلام نے ایک ایسے معاشرے اور تہذیب کو جنم دیا جس کی شان و شوکت کی نظیر نہ اس سے قبل کی انسانی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ اس کے بعد کی تاریخ میں اس کا کوئی ہمسر موجود ہے۔

            اس حد تک کہ مظلوم لوگ اور اقلیتی گروہ اسلامی ریاست کے سائے تلے پناہ حاصل کیا کرتے تھے۔ پندرہویں صدی میں جب عیسائیوں کے شدید ظلم سے بھاگ کر سپین کے یہودی خلافت میں پہنچے تو خلیفہ بایزید الثانی نے انہیں خوش آمدید کہا اور انہیں رہنے کے لیے جگہ مہیا کی۔ مسلم علاقوں میں مختلف رنگ، نسل، زبانوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ اُس عدل اور امن و تحفظ سے مستفید ہوتے تھے، جو صرف اسلام ہی مہیا کرسکتا ہے۔ اسلامی ریاست کو ایسی وفاداری حاصل تھی کہ تاریخ نے یہ نظارہ دیکھا کہ شام میں بسنے والے عیسائی خلافت کے دفاع کے لیے، اپنے ہم مذہب صلیبیوں کے خلاف مسلمانوں کی صفوں میں کھڑے تھے۔

            مسلمانوں کا فکری ارتقاء، علوم و فنون اور خوشحالی دنیا کے لیے ایک میراث ہے۔ طب، علمِ فلکیات، ریاضی اور کیمیا جیسے علوم میں ریاستِ خلافت اپنی ہم زمانہ ریاستوں سے دہائیوں نہیں بلکہ صدیوں آگے تھی۔ اس دور میں یورپ میں پڑھا لکھا شخص اسے سمجھا جاتا تھا جو مسلمانوں کی زبان یعنی عربی سے واقفیت رکھتا تھا اور عربی زبان کو علم اور ٹیکنالوجی کے حصول کی چابی گردانا جاتا تھا، اس حد تک کہ اسلامی ریاست کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنا یورپ کے شہزادے اور شہزادیوں کا خواب ہوا کرتا تھا۔

            خلافت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام لوگوں کو دولت اور وسائل تک رسائی حاصل ہو اور یہ چند ہاتھوں تک محدود ہو کر نہ رہ جائیں۔ خلافت کئی سو سال تک لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بناتی رہی اور انہیں یہ مواقع حاصل تھے کہ وہ زندگی کی آسائشوں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔ سو خلافت تلے ایک وقت ایسا بھی تھا جب افریقہ میں زکوٰة لینے والا کوئی نہ تھا۔ اور مسلمانوں کے دورِ حکومت میں برصغیر کی معیشت کو دنیا رشک کی نگاہ سے دیکھا کرتی تھی۔

            عالمی سطح پر خلافت ایک سپر پاور تھی، جس کا دور دور تک کوئی حریف نہ تھا۔ اس نے مسلمانوں کے بیش بہا وسائل کو ایک ریاستِ خلافت کی شکل میں یکجا کیا، جو تین برِاعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ خلافت نے دنیا کی سیاست کو عدل اور ایمانداری کی بنیادوں پر ازسرِ نو استوار کیا اور یوں وہ تمام دنیا کے لیے قابلِ رشک نمونہ بن گئی۔ مسلمانوں کے عدل و انصاف کی خبریں مسلمانوں کے کسی علاقے کو فتح کرنے سے قبل اس علاقے کے لوگوں تک پہنچ جاتیں اور لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہوتے گئے اور آج بھی یہ لوگ نسل در نسل مسلمان ہیں۔ اور جب کبھی مسلمانوں کے علاقوں کو بیرونی قبضے کا سامنا ہوا مثلاً تاتاریوں اور صلیبیوں کے ہاتھوں، تو مسلمانوں نے کبھی بھی ان کے سامنے سر نہ جھکایا اور بالآخر ان کے تسلط کا خاتمہ کر دیا۔

            بے شک جب مسلمان اپنے دین کی وجہ سے مضبوط تھے اور دین کو عزت کی بنیاد بناتے تھے، تو وہ انسانیت کے لیے بہترین مثال تھے۔ ایسی مثال جو اس سے قبل لوگوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ

"تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کئے گئے ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو"

(اٰل عمرن: 110(

            اور یہ قوت و حرکت اور شان و شوکت صرف تبھی دوبارہ واپسس آسکتی ہے، جب مسلمان اس دنیا و آخرت میں اپنی کامیابی کے رازکی طرف واپس لوٹیں گے یعنی اسلام کا مکمل نفاذ جو ایک یا ایک سے زائد مضبوط مسلم ممالک میں ریاستِ خلافت کے قیام کے ذریعے ہوگا اور یہ امر تمام عالمِ اسلام کی وحدت کے لیے نقطہ ٔآغاز بنے گا۔ انشا اللہ!

اسلام کو ضابطۂ حیات کے طور پر نافذ کرنا فرض ہے:

            مسلمان تمام کے تمام اسلام کے ذمہ دار ہیں کیونکہ دینِ اسلام مکمل ہو چکا ہے۔ اور مسلمان اللہ کے کسی بھی حکم سے رو گردانی اور کوتاہی کرنے پر جواب دہ ہیں۔ پس جس طرح مسلمان نماز، حج، روزہ، زکوٰة کے متعلق جواب دہ ہیں اسی طرح وہ اسلام کے نظاموں کو نافذ کرنے، مقبوضہ علاقوں کو جہاد کے ذریعے آزاد کرانے اور اسلام کی دعوت کو پوری دنیا تک پہنچانے کے متعلق بھی جواب دہ ہیں۔ نیز اسلام کے متعدد احکامات ایسے ہیں کہ جنہیں ایک مسلمان انفرادی طور پر پورا نہیں کرسکتا بلکہ اسلام نے اسے مسلمانوں کے خلیفہ کی ذمہ داری قرار دیا ہے جیسا کہ اللہ کی حدوں کو نافذ کرنا، اسلام کو پھیلانے کے لیے اقدامی جہاد کرنا، ریاست کی ملکیت اور حکمرانی سے متعلق دیگر احکامات کو لاگو کرنا وغیرہ۔ پس مسلمانوں کے لیے ایسے خلیفہ کا تقرر فرض ہے جو مسلمانوں پر فرض کردہ ان تمام احکامات کو تمام مسلمانوں کے حکمران کی حیثیت سے پورا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے احکامات کے ذریعے حکمرانی کے متعلق قرآن میں ارشاد فرمایا:

فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنْ الْحَقِّ

"پس آپ اان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ (احکامات) کے ذریعے حکمرانی کیجئے اور جو حق آپ کے پاس آیا ہے، اس کے مقابلے میں ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔" (المائدہ:48(

            چنانچہ حزب التحریر نے خلافت کے قیام کو اپنا ہدف بنایا ہے تاکہ یہ امت ریاستِ خلافت کو دوبارہ قائم کر کے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکومت کرے، اور یوں امت کو پستی کے اُس گڑھے سے باہر نکالا جاسکے، جس میں وہ گر چکی ہے۔ نیز اسے کفریہ افکار، کفریہ نظاموں اور کفریہ قوانین سے اور استعماری طاقتوں کے تسلط اور اثرورسوخ سے آزاد کرایا جاسکے۔

            پاکستان کے مسلمانوں کے ذہن میں خلافت کے تصور کو واضح کرنے کے لیے حزب التحریر ولایہ پاکستان یہ منشور پیش کر رہی ہے، جس میں پاکستان کے موجودہ نظاموں کے مقابلے میں قرآن و سنت سے اخذ کردہ نظاموں اور ریاستی ڈھانچوں کے خدوخال کو بیان کیا گیا ہے، جنہیں حزب التحریر خلافت کے قیام کے بعد نافذ کرے گی، تاکہ امت حق و باطل میں فرق کرسکے اور اپنے ہدف کے درست تعین کے بعد یکسو ہو کر اس ہدف کے حصول کے لیے جدوجہد کی راہ پر گامزن ہو جائے۔ ان نظاموں کو حزب التحریر کے تبنی کردہ افکار و تصورات اور احکامات و آراء سے اخذ کیا گیا ہے، اور ان کی مزید تفصیلات حزب التحریر کی ان کتابوں میں موجود ہیں جو حزب نے مختلف نظاموں کے متعلق شائع کی ہیں۔

            ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد امتِ مسلمہ کو خلافت عطا کرے۔ اور اس کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈک بخشے۔

(وَمَن یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ ِنَّ اللَّہَ بَالِغُ أَمْرِہِ قَدْ جَعَلَ اللَّہُ لِکُلِّ شَیْْء ٍ قَدْرا)

''اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جا تا ہے۔بے شک اللہ اپنے امر کو پورا کرکے رہے گا۔بے شک اللہ نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے'' (الطلاق: 3)

 

نظامِ حکومت

انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کی غلامی کی بجائے خالقِ کائنات کی بندگی

ایک خلیفہ کا تقرر تمام مسلمانوں پر فرض ہے:

            اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ پر فرض کیا ہے کہ وہ اللہ کے نازل کردہ تمام تر احکامات کے ذریعے حکمرانی کرے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:

فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنْ الْحَقِّ

"پس آپ اان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ تمام احکامات کے ذریعے فیصلہ کریںاور جو حق آپ کے پاس آیا ہے اس کے مقابلے میں ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔'' ( المائدہ48 : )

اور خلافت وہ اتھارٹی ہے جو صرف اور صرف اسلام اور مکمل اسلام کو نافذ کرتی ہے۔پس مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان کا ایک خلیفہ ہو جو ریاستِ خلافت کا حکمران ہو اوراسلام کے تمام تر احکامات کونافذ کرے۔اس ریاستِ خلافت کا قیام ایک فرض ہے جس میں کسی قسم کی سُستی کی گنجائش نہیں او راس کی اقامت میں کوتاہی کرنا ایک عظیم گناہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر خلیفہ کی بیعت کی موجودگی کی تاکید ان الفاظ میں کی کہ آپ ﷺ نے بیعت کے بغیر موت کو بد ترین موت یعنی جاہلیت کی موت قرار دیا۔آپ انے ارشاد فرمایا:

((وَمَنْ مَاتَ وَلَیْسَ فِیْ عُنُقِہ بَیْعَة ' مَاتَ مِیْتَةً جَاھِلِیَّةً))

''اورجوکوئی اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میںخلیفہ کی بیعت (کا طوق) نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔''(مسلم)۔

پس خلافت کے ذریعے ہی مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال اسلام کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر اسلام خلافت کی شکل میں نافذ نہ ہورہا ہو تو اسلام کا زندہ و متحرک وجود باقی نہیں رہتا۔

عوام اپنی مرضی سے خلیفہ کا چنائو کرتے ہیں:

             خلیفہ حکومت اور احکاماتِ شریعت کے نفاذ میں امت کی نمائندگی کرتاہے اوروہ اسلامی ریاست کا براہِ راست حکمران ہوتا ہے۔ چنانچہ شریعت نے یہ اختیاراُمت کودیا ہے کہ وہ کسے اپنے اُمور کی دیکھ بھال کے لئے خلیفہ چنے،چنانچہ خلیفہ کے چنائو میں لوگوں پر جبر کرنا قطعاً جائز نہیں۔منتخب امیدوار امت کی بیعت کے ذریعے خلیفہ کے منصب پر فائز ہو جاتا ہے۔چاروں خلفائے راشدین کو امت نے اپنی مرضی اور اختیار سے بیعت دی،اور وہ اس بیعت ہی کے ذریعے خلیفہ کے منصب پر فائز ہوئے۔خلیفہ کی بیعت اس شرط پر ہوتی ہے کہ منتخب شخص لوگوں پر اسلام کو مکمل طور پرنافذ کرے گا۔

خلافت نہ تو آمریت ہے اور نہ ہی جمہوریت :

            خلافت میں حاکمیتِ اعلیٰ صرف اور صرف اﷲ کی شریعت کو حاصل ہوتی ہے نہ کہ انسان کو۔لہٰذا خلافت میں خلیفہ اور امت دونوں اسلام کے احکامات کے پابند ہوتے ہیں،خلیفہ کو یہ اختیارحاصل نہیں ہو گاکہ وہ جوبھی قانون چاہے نافذکرے،بلکہ وہ قرآن و سنت کے قوانین کونافذ کرنے کاپابند ہوگا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان لوگوں کی شدید مذمت کی ہے جو اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہیں کرتے۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:( وََمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ َنْزَلَ اللّٰہُ فَُولٰئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ) ''اور جو شخص بھی اس کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہ کرے،تو ایسے لوگ ہی کافر ہیں''(المائدہ: 44)۔اورفرمایا: ( وََمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ َنْزَلَ اللّٰہُ فَُولٰئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ) ''اور جو شخص بھی اس کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہ کرے،تو ایسے لوگ ہی ظالم ہیں'' (المائدہ:45)۔اور فرمایا:( وََمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ َنْزَلَ اللّٰہُ فَُولٰئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ) ''اور جو شخص بھی اس کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے حکمرانی نہ کرے،تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں'' (المائدہ: 47)۔جبکہ جمہوریت میں جائز و ناجائز کا حتمی فیصلہ خالقِ کائنات کی بجائے لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔آزادیوں(Freedoms) کے نام پرجمہوریت انسان کو شرعی قوانین کے تحت زندگی گزارنے کی پابندی سے آزاد کر دیتی ہے۔اورعوام کے نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپنی مرضی سے قانون بناتے ہیں اور ان کی اکثریت کا فیصلہ مقدس ہوتا ہے خواہ یہ فیصلہ اسلامی احکامات کے منافی ہی ہو، لہٰذا جمہوریت کا دین کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے کسی بھی ایسے نظام کو تسلیم کرنا جائز نہیں جو جمہوری فلسفے پر استوار کیا گیا ہو۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

(اِنَّ الدِّےْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الِْاسْلَام)

''اللہ کے نزدیک طرزِ زندگی صرف اسلام ہی ہے''(اٰل عمرٰن: 19)

پاکستان کا جمہوری نظام استعمارکی مداخلت کو ممکن بناتاہے، خلافت استعمار کی ہر شکل کا خاتمہ کرے گی:

             پاکستان کے حکومتی نظام کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک استعماری نظام ہے جسے برطانیہ ہمارے درمیان چھوڑ گیا، تاکہ وہ اس نظام کے ذریعے پاکستان کے معاملات کو کنٹرول کرسکے۔چنانچہ پاکستان کے نظام کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ استعمارکو اپنے مفادات کے حصول کے لیے چور دروازہ فراہم کرتا رہے۔چونکہ پاکستان کے نظام میں قانون سازی کا اختیار انسان کے ہاتھ میں ہے، لہٰذا استعماری طاقتوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ پاکستان کے نظام کواپنے مفادات کے لیے استعمال کریں۔آمریت میں استعماری طاقتوں کو اپنی مرضی کے قوانین اور پالیسیاں بنانے کے لیے فردِ واحد کو خریدنا پڑتا ہے جبکہ جمہوریت میںوہ اکثریتی گروہ کو خریدتی ہیں۔اسلام فردِ واحد کی ڈکٹیٹرشپ اور مخصوص گروہ کی ڈکٹیٹرشپ (یعنی جمہوریت) دونوں کو یکسر مسترد کرتا ہے۔خلافت میں کوئی بھی قانون شرعی دلیل کی بنیاد پر نافذ کیا جائے گا اور خلیفہ پرلازم ہو گا کہ وہ نافذ کیے جانے والے ہر قانون کو قرآن و سنت سے اخذ کرے، یوں اقتدارِ اعلیٰ حقیقتاً اورعملاً شریعت کو حاصل ہوگا اور استعمار کے لیے قانون سازی کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

خلافت میں عوامی نمائندوں کا کردار:

             شریعت نے مسلمانوں کے امور کے لیے نمائندوں کے انتخاب کی اجازت دی ہے۔رسول اللہ انے بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر انصار سے فرمایا :

((أخرجوا لیَّ منکم اثن عشر نقیباً لیکونوا علی قومہم بما فیہم))

''اپنے میں سے بارہ سردار منتخب کرو جواپنے لوگوں کے امور میں ان کے نمائندہ ہوں'' ( ابن ہشام نے کعب بن مالک صسے روایت کیا)

            خلافت کی مجلس اُمت میں موجود نمائندے عوام کے منتخب کردہ ہوتے ہیں اور یہ نامزد کردہ نہیں ہوتے۔تاہم مجلسِ اُمت کا کام حکمرانی کرنا نہیں ہوتا اور خلیفہ کی مانند مجلسِ امت کو بھی قانون سازی کا اختیار حاصل نہیںہوتا۔بلکہ اس کا کام خلیفہ کا کڑامحاسبہ کرنا اور لوگوں کے امورکی دیکھ بھال میں خلیفہ کو مشورہ دینا ہوتا ہے۔

             خلیفہ لوگوں کے امور کی دیکھ بھال میں مشورے کے لیے مجلسِ امت کی طرف رجوع کرتا ہے تاہم یہ مشورہ کسی حلال کو حرام بنانے یا ایک حرام امر کو حلال بنانے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔پس خلافت میں جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ یا توانائی کے اداروں کی نج کاری پر کوئی مشورہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسلام پہلے ہی ان امور کو حرام قرار دے چکا ہے۔اور نہ ہی یہ مشورہ مسلم مقبوضہ علاقوںکو آزاد کرانے کے لیے افواج کو بھیجنے یا نہ بھیجنے، تعلیم کے لیے اسلام کے عقیدہ کو بنیاد کے طور پر اختیار کرنے یا نہ کرنے یا مسلم ممالک کو خلافت میں ضم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق ہو سکتا ہے کیونکہ یہ سب امور اسلام کی رُو سے فرض ہیں۔

            ریاست کے غیر مسلم باشندوں کے لیے مجلس ِ امت کا رکن بننا جائز ہو گا، تا کہ وہ اپنے اوپر اسلام کے غلط نفاذ یا کسی حکمران کے ظلم کی شکایت کر سکیں۔تا ہم غیر مسلموں کو یہ حق حاصل نہیں ہو گاکہ وہ احکامِ شریعت کی تشریع کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کریں کیونکہ یہ وہ عملی شرعی احکامات ہیں جو ایک خاص نقطہ نظر کے مطابق انسانی مسائل کا حل بیان کرتے ہیں جس کا تعین اسلامی عقیدہ کرتا ہے، اور ایک غیر مسلم اس نقطہ نظر پر یقین نہیں رکھتا۔

خلافت میں حکمرانی سے متعلق فیصلے کیسے کیے جائیں گے:

             اسلام نے مختلف نظاموں سے متعلق صرف اصول ہی بیان نہیں کیے بلکہ تفصیلی قوانین بھی دیے ہیں۔مثال کے طور پر معاشی نظام میں اراضی، سود، کرنسی، عوامی ملکیت اور محاصل سے متعلق شرعی احکامات؛ خارجہ پالیسی میں جہاد، بین الاقوامی معاہدات،سفارتی تعلقات سے متعلق احکامات۔اسی طرح نظامِ حکومت میں انتخاب، بیعت، والیوں کے تقرر اور ان کی برطرفی سے متعلق تفصیلی احکامات شریعت میںموجود ہیں۔خلیفہ ان قوانین کو من وعن نافذ کرنے کا پابند ہوتا ہے۔خلیفہ نہ تو ان معاملات میں اپنی ذاتی پسند یا نا پسند پر عمل کر سکتا ہے اور نہ ہی خلیفہ کو ان احکامات کو نافذ کرنے کے لیے عوام کے نمائندوں کی اکثریت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔

            جہاں تک ان شرعی احکامات کا تعلق ہے جن میں اجتہادی اختلاف کی گنجائش موجود ہے تو ان میں شریعت نے یہ اختیار خلیفہ کو دیا ہے کہ وہ جس فقہی رائے کو شرعی دلیل کی بنیاد پر قوی اور مضبوط ترین سمجھے،اسے ریاستی قانون کے طور پر نافذ کرے۔جیسا کہ ابو بکرص نے اپنی خلافت کے آغاز میں اکثرصحابہ ثکی رائے کو مسترد کرتے ہوئے مرتدین اورزکوٰةدینے سے انکار کرنے والوں کے خلاف لشکر کشی کی۔نیز عمرصنے عراق کے مفتوحہ علاقوں کی تقسیم کے متعلق اپنے اجتہاد کو نافذ فرمایا اگرچہ بلال صاور کئی اکابر صحابہ ث کا اجتہاد آپ سے مختلف تھا۔

            خلیفہ انفرادی عبادات اور عقائد کی تفصیلات میں کسی مخصوص رائے کو معاشرے پر لاگو نہیں کریگا اور لوگ ان معاملات میں کسی بھی اجتہاد یا فقہ کے مطابق عمل کرنے میں خودمختار ہوں گے۔

             وہ اُمور جن میں عوام خاطر خواہ علم رکھتے ہیں اور جو کہ آپریشنل یا عملی نوعیت کے ہیں،خلیفہ ان میں عوام کی اکثریت کی رائے پرعمل کرنے کا پابند ہوگا مثلاً اگر خلیفہ ایک علاقے کے رہائشی افرادسے رائے طلب کر لے کہ آیا پہلے سٹرکوں کو بہتر بنایا جائے یا علا قے میں یونیورسٹی قائم کی جائے، تو ایسی صورت میں خلیفہ کے لیے عوام کی اکثریت (یعنی ان کے نمائندوں کی اکثریت) کے فیصلے کو نافذ کرنا لازم ہوگا۔غزوۂ اُحد کے موقع پررسول اللہ ﷺ اور کُبارصحابہ ث کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر قریش کا مقابلہ کیا جائے جبکہ اکثریت خصوصاً جوان صحابہث کی رائے تھی کہ قریش کا مقابلہ مدینہ سے باہر نکل کر کیا جائے۔رسول اللہا نے اپنی اور کبار صحابہث کی رائے کی بجائے اکثریتی رائے کو نافذ فرمایا اور قریش کا مقابلہ مدینہ سے باہر نکل کر احد کے مقام پرکیا۔

             وہ امور جن میں ماہرین ہی علم رکھتے ہیں اور عوام الناس عموماً ان کے بارے میں خاطر خواہ علم نہیں رکھتے ان میں خلیفہ عوام الناس کی بجائے فقط ماہرین کی طرف رجوع کرے گا۔ان سے مشورے کے بعد خلیفہ کی نظر میں جو بھی رائے زیادہ مناسب ہو،اسے اختیار کیا جائے گا۔اس میں عوام کی یا تکنیکی ماہرین کی اکثریت کو ملحوظ نہیں رکھا جائے گا۔چنانچہ اگر بجلی کی قلت کا سامنا ہو تو خلیفہ تکنیکی ماہرین سے مشورہ کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا کہ ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا کی جائے یا شمسی توانائی پر انحصار کیا جائے۔اس کی دلیل غزوۂ بدر کا واقعہ ہے، جب رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک صحابی (حباب بن منذرص) کی رائے پر لشکر کے پڑائو کی جگہ کو تبدیل کر دیا کیونکہ حباب ص ایسے امو رمیں مہارت رکھتے تھے۔

             مندرجہ بالا تمام معاملات میں امت اور ان کے نمائندے خلیفہ کا محاسبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال عوام کی بھلائی کے لیے درست انداز میں کرے۔

پاکستان کا موجودہ نظام حکمرانوں کو محاسبے سے بالاتر بناتا ہے،صرف خلافت میں ہی حکمرانوں کا کڑامحاسبہ ممکن ہے:

            1973کے آئین کا آرٹیکل 248 صدر، گورنر، وزراء وغیرہ کو اپنی ذمہ داری کی انجام دہی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔علاوہ ازیں اراکینِ اسمبلی اکثریت کی بنیاد پر کوئی بھی قانون بنانے میں آزاد ہیں لہٰذا وہ قانون سازی کر کے اپنے اقدامات کو عدالتی محاسبے سے بالا تر بنا سکتے ہیں۔اس کی حالیہ مثال NROہے جس میں قتل کے مقدموں سے لے کر اربوں روپے کی لوٹ مار تک کو عدالت کی دسترس سے خارج کر دیا گیا ہے۔چنانچہ موجودہ نظام میں محاسبے کی بات کرنا محض ایک مذاق ہے۔

            خلافت میں خلیفہ بادشاہ یا ڈکٹیٹر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے پاس کسی شرعی قانون کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلنے کا اختیار ہوتا ہے۔خلافت میں خلیفہ کے اعمال اور اس کے حکمرانی کے دوران کئے گئے اقدامات اور فیصلوں پر اس کا احتساب کرنا محض عوام کا حق نہیں ہوتا بلکہ اسلام کی رُو سے یہ عوام پر فرض ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کا محاسبہ کریں۔رسول اللہ انے ارشاد فرمایا:

((وَالَّذِیْ نَفسِیْ بِیَدِہ لَتمُرُنَّ بِالمَعرُوفِ وَلَتَنْھَوُنَّ عَنِ المُنکَرِ اَولِیُوشَکنَّ اللّٰہُ اَنْ یَّبْعَث عَلَیْکُمْ عِقَابًامِّن عِندِہ ثُمَّ لَتَدعُنَّہُ وَلَایُسْتَجَابُ لَکُم))

''اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم ضرورنیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے منع کرتے رہو۔ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل کردے۔پھر تم اسے پکارو لیکن تمہاری پکار سنی نہ جائے۔''(ترمذی) چنانچہ خلافت میں کسی بھی فرد، جماعت، مجلسِ امت اور قاضیٔ مظالم سب کو خلیفہ کا محاسبہ کرنے کا اختیارہوتا ہے۔

            اسلام نے خلیفہ کواس وقت ہٹا دینے کا حکم دیاہے جب وہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکومت نہ کرے یا جب وہ عوام پر ظلم کرے اور خلیفہ کو ہٹانا ظلم کودور کرنے کے لیے لازم ہو۔اس صورتِ حال میں عوام قاضی مظالم کے سامنے مقدمہ دائر کرسکتے ہیں اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں قاضی مظالم خلیفہ کو ہٹانے کا مجاز ہوگا۔نیز قاضی مظالم خلیفہ کے کسی بھی اقدام کے خلافِ اسلام ہونے پر سو موٹو ایکشن لے سکتا ہے۔

خلافت سیاسی کرپشن کا قلع قمع کرے گی:

            سیاسی کرپشن کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو پاکستان سمیت ہر جمہوری معاشرے میں موجود ہے اور اکثرموضوع گفتگو رہتا ہے۔لیکن اکثر اوقات لوگ اس کرپشن کو محض شخصیات کا مسئلہ سمجھ کر پاکستان کے موجودہ نظام کو ان کرپٹ افراد سے پاک کرنے کو اپنی کوششوں کا محور بنا لیتے ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن اس نظام کا جزوِ لاینفک ہے۔کیونکہ اس نظام کے بنیادی اصول ہی درحقیقت کرپشن کو جنم دیتے ہیں۔چونکہ اس نظام میں قانون سازی انسان کے پاس ہے لہٰذا ہر کرپٹ شخص جانتا ہے کہ وہ اس منصب کو حاصل کرکے ایسے قوانین بنا سکتا ہے جس سے اس کی کرپشن ماورائے قانون بن جائے۔لہٰذا وہ کروڑوں روپے لگا کر عوامی نمائندہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔یوں معاشرے کے کرپٹ ترین لوگ چھَن کر اسمبلی میں کھنچے چلے آتے ہیں اور عوام کے امور کی دیکھ بھال کی بجائے ان کرپٹ عناصرکے امور کی دیکھ بھال ہی اسمبلی کا اولین مقصد بن جاتا ہے۔مزیدبرآں ممبران اسمبلی کو حاصل عدم اعتماد کے ووٹ کا حق بھی سیاسی کرپشن کا موجب بنتا ہے اور حکمران ممبران کو ترقیاتی فنڈ اور وزارتوں کا لالچ دے کر خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

            لیکن خلافت میں چونکہ مجلسِ اُمت ایک قانون ساز ادارہ نہیں ہو گی اس لئے اس کی رکنیت حاصل کر کے ایک شخص اپنے سیاہ کو سفید نہیں بنا سکے گا۔نیز خلافت میں عوام کے نمائندے خلیفہ کو محض اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق معزول کرنے کے مجاز نہیں ہوتے۔لہٰذا خلیفہ کو انہیں خوش رکھنے کے لئے کسی قسم کی سیاسی رشوت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یوں جمہوریت کے برخلاف خلافت سیاسی کرپشن کا خاتمہ کرے گی۔

 

اقتصادی نظام

عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا اور انہیں اس قابل بنانا کہ

وہ دولت و وسائل میں سے اپنا حصہ وصول کر سکیں

پاکستان میں رائج سرمایہ دارانہ نظام دولت کے ارتکاز اور غربت کی وجہ ہے

خلافت دولت کی گردش اور وسائل کی تقسیم کے ذریعے غربت کا خاتمہ کرے گی:

            غربت کا خاتمہ صرف ایک صورت میں ہی ممکن ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ہر شخص کو زندگی کی آسائشیں حاصل کرنے کے مواقع منصفانہ طور پر مہیا کیے جائیں۔پاکستان میں رائج سرمایہ دارانہ نظام کی خامی یہ ہے کہ یہ نظام اصل مسئلے کی طرف توجہ دیے بغیر غربت کے مسئلے کو محض پیداوار میں اضافے کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تمام لوگوں میں دولت کی موثر تقسیم اور گردش کیسے ممکن بنائی جائے۔

            پس پاکستان میںآنے والی ہر حکومت نے اپنی توجہ پیداوار اور اوسط آمدنی میں اضافے پر مرکوز رکھی اور اس طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیں کہ معاشرے میں دولت کی تقسیم کیسے ہو رہی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ اگرچہ ملکی پیداوار میں اضافہ ہوا مگر دولت چند ہاتھوں میںجمع ہوتی گئی۔طاقت وراپنی طاقت کے بل بوتے پر دولت حاصل کر لیتا ہے جبکہ کمزور کی کمزوری کی وجہ سےاس کے حصے میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔اس کا ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کی بجائے عوام کے گردغربت کا شکنجہ مزید سخت ہو رہا ہے۔

            اسلام اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اسلام نے دولت کی تقسیم کے مسئلے کو موضوع بنایا ہے اور اس کا مؤ ثر حل عطا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:

(کَیْْ لَا یَکُونَ دُولَةً بَیْْنَ الْأَغْنِیَاء مِنکُمْ)

''ایسا نہ ہو کہ دولت تمہارے امیر لوگوں کے درمیان ہی گردش کرتی رہے''۔(الحشر:7)

            اسلام نے ملکیت، توانائی، محصولات، سرمایہ کاری، کرنسی، زراعت اور صنعت کے متعلق منفرد قوانین دیے ہیں جو لوگوں کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دوسروں کو محروم کیے بغیر اور ان کے حق پر ڈاکہ ڈالے بغیر دولت اور وسائل میں سے اپنا حصہ حاصل کر سکیں اوران قوانین کے نفاذ کے نتیجے میں دولت معاشرے کے تمام لوگوں کے درمیان گردش کرتی رہے۔

موجودہ نظام میں عوامی اثاثہ جات مثلاً تیل، گیس، بجلی سے سرمایہ دار کمپنیاں فائدہ اٹھاتی ہیں، خلافت میں عوامی اثاثہ جات عوام ہی کے لیے ہوں گے:

            موجودہ سرمایہ دارانہ نظام اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ چند نجی مالکان توانائی کے ذخائر سے اربوں روپے بنا سکیں اور دوسری طرف عوام تنگی اور محرومی سے دوچار رہیں۔عوامی اثاثہ جات کی نج کاری کے باعث روز مرہ کی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔تیل،گیس اوربجلی کے ذخائر کو پرائیویٹائز کرنے سے قبل حکومت ان کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے تاکہ انہیں نجی کمپنیوں کے لیے پُر کشش بنایا جائے۔اس عمل کا تمام بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔نیز پرائیویٹ ہاتھوں میںجانے کے بعد نجی مالکان اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے ان سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں تمام اشیائے صرف کی قیمتیں چڑھ جاتی ہیں۔جیسا کے ورلڈ بینک نے اس بات کی نگرانی کی کہ پاکستان میں سال2000اور 2004کے درمیان بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جائے، قیمتوں میں یہ اضافہ مسلسل جاری ہے۔چنانچہ ایک طرف تو چھوٹاساسرمایہ دار ٹولا توانائی کے ذخائر کی ملکیت کے ذریعے امیر سے امیر تر ہوتا جارہا ہے جبکہ عوام توانائی کی ناقابلِ برداشت قیمتوں کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں۔توانائی کی قیمتوں کے مسلسل اضافے نے پاکستان کی صنعت اورزراعت کوبری طرح متاثرکیا ہے۔

             اسلام توانائی کے ذخائر جیسے وسائل کو عوامی ملکیت قرار دیتا ہے۔رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:((المسلمون شرکاء فی ثلاث الماء و الکلا و النار))''تمام مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، چراگاہیںاور آگ''(ابو داؤد)۔چنانچہ نہ تو ریاست اور نہ ہی افراد اکیلے ان سے حاصل ہونے والے فوائد ہڑپ کرسکتے ہیں۔اس کی بجائے اسلام اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ پوری کی پوری عوام اس بے پناہ دولت سے مستفید ہو اور لوگوں کو یہ وسائل cost priceپر مہیا کیے جائیں۔

خلافت ان ظلمانہ ٹیکسوں کا خاتمہ کرے گی جن کے بوجھ تلے پاکستان کے عوام پس رہے ہیں:

            پاکستان کے عوام ظالمانہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے پس رہے ہیں۔انکم ٹیکس ان کی تنخواہیں کھا لیتا ہے، جنرل سیلز ٹیکس کھانے پینے اور ادویات جیسی ضروری اشیا کی خرید کو مشکل بنا دیتا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے کہنے پر ایندھن اور توانائی کے ذرائع پر بھاری ٹیکس عائد کر رہا ہے جس نے پاکستان کی صنعتی پیداوار اور بین الاقوامی منڈی میں دوسرے ممالک کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔پاکستان میں ایک کسان کو حکومت کی طرف سے زرعی سہولیات مہیا کرنے کی بجائے زرعی ادویات اور کھادوں پر ٹیکس عائدکر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں غریب کسان کے لیے زراعت کو ذریعہ آمدن کے طور پر برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔اسلامی ریاست میں ایسے ظالمانہ ٹیکسوں کی بالکل اجازت نہیں ہو گی۔اور نہ ہی خلافت میں کورٹ فیس، محصول چنگی، ٹول ٹیکس جیسے ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

((لا ید خل الجنة صاحب مکس))

''ٹیکس لینے والا جنت میں نہیں جائے گا'' (ابو داؤد)۔

            اسلام کا ایک اپنا منفردمحصولاتی نظام ہے۔اس میں پیداواری زمین پر خراج، صنعتی پیداوار پر زکوٰة،اضافی عوامی اثاثہ جات سے حاصل ہو نے والی آمدنی،ریاستی حِمٰیسے حاصل ہونے والی آمدنی، غنائم و مالِ فئے وغیرہ شامل ہیں۔اسلام صرف ایک صورت میں ریاست کے شہریوں سے وقتی طور پرٹیکس وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ایسا کرنا کسی شرعی فرض کو پورا کرنے کے لیے نا گزیر ہو جائے مثلاً جہاد کے لیے یا کسی نا گہانی آفت سے نبٹنے کے لیے۔ایسی صورت میں بھی جی ایس ٹی کی مانند ایک عمومی ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتابلکہ صرف صاحبِ ثروت لوگوں سے ٹیکس لیا جا سکتا ہے۔سرمایہ کاری کے رستے میں حائل بے جا رکاوٹوں کے دور ہونے اورریاست کی طرف سے عوام کومدد و تعاون کی فراہمی کے نتیجے میں خلافت کے اندر معیشتی سرگرمی اور صنعتی و زرعی پیداوارمیں بے پناہ اضافہ ہو گا جسکے نتیجے میں خلافت کے پاس محصولات کی ایک بھاری مقدار جمع ہو سکے گی۔

 بیرونی سرمایہ کاری استعماری مداخلت اور غیر مستحکم معیشت کا باعث بنتی ہے، خلافت اندورنی سرمایہ کاری کو بڑے پیمانے پر فروغ دے گی:

            اسلام کے محصولاتی نظام کے نتیجے میںخلافت کے بیت المال میں بڑے مقدار میں فنڈموجود ہوں گے۔یہ فنڈ ریاست کی ترقی کے لیے کلیدی اور اہم شعبوں میں خرچ کیے جائیں گے مثلاً بھاری صنعتوں کے قیام اور دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لیے۔یہ محصولات بڑے بڑے پراجیکٹوں مثلاً ڈیموں کی تعمیر، بنجر زمین کی کاشت، جہاد کے لیے اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر تیاری وغیرہ کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔اور اس کے لیے بیرونی سرمایہ کاری اور قرضوںپر انحصار نہیں کیا جائے گا۔استعماری ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کے منصوبے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں مثلاً ورلڈ بینک کی طرف سے قرضوں کی فراہمی ہمیشہ ایسی شرائط کے ساتھ منسلک ہوتی ہے جس کے نتیجے میںکسی ملک کے وسائل پر استعماری طاقتوں کے کنٹرول اور معیشت میں ان کے اثر رسوخ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اور ایک ملک کی حقیقی اقتصادی صلاحیتیں کبھی بھی پروان نہیں چڑھ پاتیں۔چنانچہ خلافت کی نظر میں بیرونی سرمایہ کاری معیشتی استحکام کے لیے آپشن نہیںہے۔

خلافت جابرانہ قرضوں کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکے گی:

             دنیا بھر کی مقروض ترقی پزیر ممالک کی طرح پاکستان بھی قرضوں پر مسلسل سود ادا کرنے کے باوجود قرضوں کے جال سے نہیں نکل پایا۔اس وقت تک پاکستان قرضوں پر سود کی مد میں کئی ارب ڈالر ادا کر چکا ہے، جو کہ قرضوں کی اصل رقم سے بھی زیادہ ہے، لیکن وہ قرضوں کے بوجھ تلے مزید دبتا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

(وَأَحَلَّ اللّہُ الْبَیْْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا)

''اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے''

(البقرة: 275)۔

خلافت استعماری ممالک کے اس ظلم کو بے نقاب کرے گی کہ انہوں نے دیگر اقوام کو سودی قرضوں کے ذریعے غلام بنا رکھا ہے۔اور ایک شدید مہم چلائے گی تاکہ بین الاقوامی سطح پر اس ظلم و استحصال کے خلاف رائے عامہ قائم کی جائے اور خلافت دیگر غریب ممالک کو بھی اس سودی جال کو اُتار پھینکنے کی ترغیب دے گی۔

خلافت قیمتوں میں مسلسل اضافے کے مسئلے کا جڑ سے خاتمہ کرے گی:

            پاکستان میں ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کے مسلسل بڑھنے کی وجہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہے۔حکومت بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ کرنسی نوٹ چھاپتی ہے جس کے نتیجے میں افراطِ زر پیدا ہوتا ہے اور اشیا کی قیمتیں چڑھ جاتی ہیں۔اس کا براہِ راست اثرایک عام تنخواہ دار اور دیہاڑی دار آدمی پر پڑتا ہے جن کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہوتا۔مارکیٹوں میں مندی کا رجحان اسی کا نتیجہ ہے۔جبکہ استعماری ادارے مثلاً آئی ایم ایف روپے کی قدر میں کمی پر مسلسل اصرار کرتے رہتے ہیں۔کیونکہ کمزور روپیہ مغربی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد میں ہے۔کمزور روپے کے نتیجے میں ان کمپنیوں کو خام مال کم لاگت پر دستیاب ہو جاتا ہے اور یہ کمپنیاں پاکستان میں سستے داموں پر اشیاء تیار کرواتی ہیں اور انہیں مغربی منڈیوں میں مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں۔

            اسلامی ریاست میں کرنسی سونے اور چاندی سے منسلک ہوگی۔چنانچہ خلافت میں کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی واقع نہیں ہو گی، جو آج کی Fiat Currencyکے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اس کے نتیجے میں عام آدمی سکھ کا سانس لے سکے گا۔

پاکستان کا موجودہ نظام مغرب کی صنعتی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیے صنعتی خود کفالت سے دانستاً غفلت برتتا ہے، خلافت بھاری صنعت میں خود کفالت کی پالیسی اپنائے گی:

            ریاستِ خلافت کے لیے دو قسم کی فیکٹریاں لگانانا گزیر ہے، کیونکہ ریاست پر لوگوں کے امور کی دیکھ بھال فرض ہے۔اول: وہ فیکٹریاں جو عوامی اثاثہ جات سے متعلق ہیں مثلاً گیس اور تیل صاف کرنے والے پلانٹ۔چونکہ عوامی اثاثہ جات تمام عوام کی اجتماعی ملکیت ہوتے ہیں اس لیے یہ پلانٹ بھی عوام کی مشترکہ ملکیت ہوں گے اور ریاست عوام کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ان کا بندوبست کرے گی۔دوم: وہ کارخانے جن کا تعلق بھاری صنعتوںاور اسلحہ سازی سے ہے، جوانجن سازی اور مشین سازی کی قابلیت رکھتے ہوں۔ریاست اس نوعیت کے کارخانے قائم کرے گی۔صرف بھاری صنعتوں کی موجودگی میں ہی ایک فوج مضبوط اور طاقت ور ہو سکتی ہے۔

            ریاست کا کوئی شہری بھی بھاری صنعتوں سے متعلق کارخانہ لگا سکتا ہے، لیکن چونکہ ایسے کارخانوں کے قیام کے لیے کثیرسرمائے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا ریاست خود اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ریاست میں ایسے کارخانے بڑی تعداد میں موجود ہوں۔

            مغرب نے ایجنٹ حکمرانوں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کی صنعت محض خام اشیاء کی فراہمی تک محدود رہے اورپاکستان قابلیت رکھنے کے باوجود صنعتی میدان میں ترقی نہ کر سکے اور بھاری مشینوں، انجن، ہوائی جہازوں اور اہم سپیئر پارٹس کے لیے مغرب ہی کا محتاج رہے۔چنانچہ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کی واحد اہم پیداوار خام کپڑے کی تیاری ہے جبکہ مغربی کمپنیاں مشنری اور آلات مہنگے داموں پاکستان کو فروخت کرکے منافع کما رہی ہیں۔خلافت اس صورتِ حال کو یکسر تبدیل کرے گی اور بھاری صنعت میں خود کفالت حاصل کرنے کو اپنا اہم ہدف بنائے گی۔

فوجی ٹیکنالوجی:

             آج پاکستان کی فوج درآمد کردہ ٹیکنالوجی کی محتاج ہے۔امریکہ اس طریقے سے اسلحہ فروخت کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کنٹرول میں رکھ سکے۔امریکہ پاکستان جیسے ممالک کو چند تیار کردہ فوجی مصنوعات تو فراہم کرتا ہے مگر کبھی بھی اپنی کمپنیوں کواس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ فوجی ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کریں۔نتیجتاً پاکستان امریکہ کا فوجی یرغمال بن کر رہ گیا ہے حتیٰ کہ وہ سپیئر پارٹس بھی امریکہ سے درآمد کرنے پر مجبور ہے۔

            پس خلافت کے خود مختار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ عسکری میدان میں بھی دیگر ریاستوں کے اثر و رسوخ سے آزاد ہو اور خود اپنا اسلحہ تیار کرے اور اس میں بہتری لائے۔چنانچہ اس کے نتیجے میں خلافت نہ صرف مضبوط ہو سکے گی بلکہ مستقل بنیادوں پر جدید ترین اور اعلیٰ ترین اسلحے کی حامل بھی بن سکے گی۔خلافت کے پاس وہ تمام ہتھیار موجود ہوں گے جو دشمنوں پر رعب ڈالنے کے لیے ضروری ہیں، خواہ یہ کھلم کھلادشمن ہوں یا ایسی اقوام جو ممکنہ طور پر دشمن ثابت ہو سکتی ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (وَاَعِدُّوْا لَھُم مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِّبَاطِ الْخَےْلِ تُرْھِبُونَ بِہ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِینَ مِنْ دُونِھِمْ ج لَا تَعْلَمُونَھُمْج اَللّٰہُ ےَعْلَمُھُمْ)''اورتم اپنی مقدور بھر قوت اور گھوڑوں کو ان کے لیے تیاررکھو، تا کہ اس سے تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ کرو اور اس کے سوا اُن کو بھی جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے''(الانفال:60)۔

پاکستان کی موجودہ زرعی پالیسی زرعی پیداوار کے اضافے میں رکاوٹ ہے، خلافت زراعت سے متعلق اسلامی قوانین کے نفاذ کے ذریعے زرعی پیداوار کو وسعت دے گی:

            اگرچہ پاکستان بہترین زرعی وسائل کا حامل ہے لیکن زراعت کے متعلق نظام کی غفلت نے یہ صورتِ حال پیدا کردی ہے کہ پاکستان جو دیگر ممالک کو کھلانے کے قابل ہے آج بنیادی اجناس کو بھی درآمد کر رہا ہے۔

            پاکستان میں زرعی اراضی کا ایک بہت بڑا رقبہ حکومت کی عدم توجہ کے باعث بیکار اوربنجر پڑاہے جبکہ ایسے غریب کسان موجود ہیں جو زمین کو کاشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس زمین نہیں۔اسلام زرعی اراضی کے متعلق یہ حکم دیتا ہے کہبنجر زمین کو آباد کرنے والا اس زمین کا مالک بن جاتا ہے۔رسول اللہا نے فرمایا: (( مَنْ َعْمَرَ َرْضاً لَےْسَتْ لَحَدٍ فَھُوَ َحَقُّ)) ''جس نے بھی ایک ایسی زمین کاشت کی جو کسی کی ملکیت نہیں تھی تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے''(بخاری)۔چنانچہ خلافت اس شرعی قانون کو نافذ کرے گی اور غریب لوگوں کو مدد فراہم کرے گی کہ وہ بنجر اراضی کو قابلِ کاشت بنائیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ کریں۔

            علاوہ ازیں خلافت اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ وہ لوگ جن کے پاس قابلِ کاشت اراضی کا کثیر رقبہ موجود ہے اور وہ اس تمام رقبے پر کاشت نہیںکرتے، اس تمام اراضی کو ضرور استعمال میں لایا جائے۔کیونکہ اسلام نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اگر کوئی زمیندار مسلسل تین سال تک زرعی اراضی کو کاشت نہ کرے تو وہ اس سے واپس لے کر مستحقین میںتقسیم کر دی جائے۔یہ امر بھی زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا۔

            خلافت لوگوں کو بڑے بڑے قطعات کی ملکیت رکھنے اور انہیں زیرکاشت لانے سے منع نہیں کرے گی۔چنانچہ کوئی بھی زمیندار خود یا اپنے تنخواہ دارمزدوروں کی مدد سے اپنی زرعی زمین کاشت کر سکتا ہے۔تاہم زمین کو ٹھیکے پر دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:((من کانت لہ ارض فلیزرعھا او فلیزرعھا اخاہ ولا یکارھا بثلث او بربع ولا بطعام مسمی))''جس کسی کے پاس بھی زمین ہو اسے چاہئے کہ وہ اس پر کاشت کرے یا اپنے مسلمان بھائی کو کاشت کرنے دے۔لیکن وہ اسے پیداوار کے تیسرے حصے یا چوتھے حصے یا متعین مقدار کے عوض ٹھیکے پر نہ دے''(ابو داؤد)۔یوں مزارعت کے نام سے جاری غریب کسانوں کے استحصال کو ختم کیا جائے گا۔

            خلافت اپنے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی فراہم کرے گی جس کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار کو بڑھایا جاسکے۔نیز کھادوں، کیڑے مار دوائوں پر عائد غیر شرعی ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔

 

عدلیہ

اللہ کا عطا کردہ نظامِ عدل - انسانیت کے لیے باعثِ رحمت

انسانیت کو عدل صرف اسلام ہی کی بنیاد پر فراہم کیاجاسکتا ہے:

            کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر پر امن اور پر سکون زندگی کا تصور نہیں کر سکتا۔لیکن انصاف کسی نہ کسی نظریے ہی کی بنیاد پر فراہم کیا جاتا ہے۔اسی لئے اکثراوقات دو انسانوں کی نظر میں انصاف کا پیمانہ مختلف نظریات رکھنے کے باعث مختلف ہوجاتا ہے۔مثلاً کیا توہینِ رسالت کے مرتکب شخص کو اسلامی شریعت کے مطابق قتل کیا جائے یا ''آزادیٔ اظہار'' کے تصور کے تحت اس کی جان کی حفاظت کی جائے۔

            جمہوریت میںانصاف کا پیمانہ انسانی خواہشات ہیں۔عوام کے نمائندے جس عمل کو جرم قرار دیتے ہیںوہ قابلِ سزا ہوتا ہے اور جس قدر وہ سزا دینا مناسب سمجھتے ہیںوہی عین عدل سمجھا جاتا ہے۔اس کے برعکس خلافت کے نظام میں چونکہ اﷲ ہی حقیقی حاکمِ اعلیٰ ہے اس لئے اسلام کے احکامات ہی جرم کا تعین کرتے ہیں اوراسلام کے احکامات ہی وہ پیمانہ اور کسوٹی فراہم کرتے ہیں جس کی بنیاد پر قاضی لوگوں کے درمیان مختلف تنازعات کا فیصلہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلافت میں سول کورٹس اور شرعی عدالتوں کی تقسیم بالکل نہیں ہوتی اور تمام عدالتیں اسلام کے قوانین کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔

وجودہ عدالتی ڈھانچہ عوام کو فوری انصاف نہیں دے سکتا،خلافت کا عدالتی نظام فوری انصاف فراہم کرتا ہے:

            پاکستان کے عوام عدالتوں کے انتظامی قوانین کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہیں۔اول توماتحت عدالت میں مقدمہ چلتا ہی نہیں اور مدعی پیشیاں بھگت بھگت کر ہی کنگال ہو جاتا ہے اور اگر مقدمہ چل پڑے تو فیصلہ آنے میں مہینوں اور کبھی سالوں لگ جاتے ہیں۔نیز اگر فیصلہ درست بھی آجائے تو دوسرا فریق فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کر دیتا ہے اور اپیل در اپیل کے اس سلسلے سے انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔چنانچہ بیشمار لوگ حتمی فیصلہ سنے بغیر ہی خالقِ حقیقی سے جاملتے ہیں۔انگریز کے چھوڑے ہوئے اس عدالتی طریقہ کار کی وجہ سے آج ہزاروں مقدمات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔اور ان پرہر سال نئے مقدمات کا اضافہ ہورہا ہے۔اس کے نتیجے میں مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیںکہ اگر انہیں کسی ایک عدالت میں سزا ہو بھی جائے تو وہ اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر کے معاملے کو التوا میں ڈال سکتے ہیں،اور مقدمے کے حتمی فیصلے کے لیے کئی سال درکار ہوں گے۔

            خلافت میں عوام کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں دھکے نہیں کھانے پڑیں گے اورپہلی عدالت کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا اور اسے کوئی دوسری عدالت یا خلیفہ بھی معطل یا منسوخ نہیں کرسکتا، ماسوائے یہ کہ وہ فیصلہ کتاب اللہ و سنتِ رسول اکی قطعی نص سے متناقض ہویا قاضی نے قطعی حقائق کو مسترد کر دیا ہو۔ایسی صورت میں مدعی اس قاضی کے خلاف قاضی مظالم کی عدالت میں مقدمہ درج کروا سکتا ہے۔یوں اسلام کے عدالتی نظام کے مندرجہ بالا حکم کی بنا پر عوام کو فوری انصاف مہیا ہوگا اور مقدمات جمع نہیں ہوپائیں گے۔نیز شر پسند عناصر کو اس بات کا خوف ہو گاکہ اگر معاملہ عدالت میں چلا گیا تو وہ فی الفور فیصلہ صادر کرے گی جس پر عمل درآمد کو التوا میں نہیں ڈالا جا سکے گا۔

خلافت میں ملزم کو محض شک کی بنیاد پر جیل میں ڈال دینے کی کوئی گنجائش نہ ہوگی:

            انگریز کے چھوڑے ہوئے قوانین کا ایک اور شاخسانہ یہ ہے کہ اس میں مقدمہ درج ہونے کے ساتھ ہی ظلم کی ابتدا ہو جاتی ہے۔لوگ اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروادیتے ہیں اور ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ کے نام پر جیل میں پھینک دیا جاتاہے۔آج پاکستان کی جیلوں میں ایسے ہزاروں لوگ ظلم کا شکار ہیں جنہوں نے کسی قسم کا کوئی جرم نہیں کیا لیکن چونکہ ان کے پاس ضمانت کرانے کے وسائل نہیں اس لئے وہ جیل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

            اسلامی عدلیہ میں ایک ملزم جرم ثابت ہونے تک مکمل طور پر معصوم گردانا جاتا ہے۔اس لئے اسے جیل یا لاک اپ میں بند رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔یہ ذمہ داری مدعی یا سکیورٹی اداروں کی ہوتی ہے کہ وہ عدالت میں اس کے خلاف ثبوت پیش کر کے اس کے جرم کو ثابت کریں۔اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو مقدمہ فوراً خارج کر دیا جاتا ہے۔ماسوائے یہ کہ اگر پولیس کے پاس پہلے ہی جرم کے شواہد موجود ہوں یا قاضی یہ دیکھے کہ غالب گمان یہ ہے کہ ملزم روپوش ہوجائے گاتو اس مخصوص صورتحال میں اسے محدود وقت کے لئے جیل یا لاک اپ بھجوا یا جاسکتا ہے۔تاہم ملزم کے خلاف شواہد پیش نہ کرنے کی صورت میں اس مختصر مدت کے اختتام پر وہ خود بخود جیل سے باہر آجاتا ہے اور اسے کسی قسم کی ضمانت جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یوں خلافت کا قیام پاکستان کے عوام کواس ظلم سے نجات دلانے کا باعث ہو گا۔

خلافت میں کسی بھی حکمران کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے:

            پاکستان کے جمہوری نظام میں حکمران ٹولہ جب چاہتا ہے قوانین میں ترامیم کر کے اپنی ذات اور اپنی پالیسیوں کو عدالتی کاروائی سے بالاتر بنا لیتا ہے۔پاکستانی آئین کا آرٹیکل 248 پہلے ہی صدر، گورنر، وزراء وغیرہ کو اپنی ذمہ داری کی انجام دہی کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔اسی طرح عوام حکمران کی طرف سے کسی ظالمانہ قانون کے نفاذ پر حکمرانوں کو سزا نہیںدلوا سکتے،حتیٰ کہ افغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے کر مسلمانوں کا قتلِ عام کرنے، پانچ سو سے زائد مسلمانوں کو گوانتانامو بے بھجوانے اور امریکہ کو اڈے فراہم کرنے جیسی باطل پالیسیوں کے خلاف بھی عوام عدالت کی طرف رجوع نہیں کر سکتے۔کیونکہ جمہوری عمل کے ذریعے پاکستان کی پارلیمنٹ نے سترھویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا۔

            اسلام کے نظامِ خلافت میں کوئی بھی شخص قانون اور محاسبے سے بالاتر نہیں خواہ وہ حکمران ہوں یا قاضی۔خلافت میں قاضی مظالم خلیفہ اور والی سمیت تمام حکمرانوں کے خلاف اور ان کی کسی بھی پالیسی کے متعلق مقدمے کی سماعت کر سکتا ہے اور انہیں عدالت میں طلب کر سکتا ہے۔قاضی مظالم کو حکمران کو سزا دینے اور اسے معزول کرنے کا اختیارحاصل ہوتا ہے۔

 دبائو اور اثر ورسوخ سے آزاد عدلیہ انصاف کی فراہمی کے لیے کافی نہیں:

             عدلیہ کا آزادہونا انصاف کی فراہمی کے لئے ایک لازمی عنصر ہے لیکن مکمل انصاف کے حصول کے لیے کئی دیگر عدالتی امور کا درست ہوناضروری ہے۔ان امور میں سے ایک اہم امروہ قوانین ہیںجن کے تحت جرم کا تعین کیا جاتا ہے۔اگر یہ قوانین غیر اسلامی بنیادوں پر وضع کئے گئے ہوں تو انصاف عدالت کی پہلی سیڑھی پر ہی دم توڑ دیتا ہے۔پاکستان کے قانون کے تحت امریکہ کے خلاف افغانستان اور عراق میں جہاد کی بات تک کرنا جرم اور دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اور جج حضرات اس فرض کو ادا کرنے پرا یسے شخص کو سزا دینے کے پابند ہیں۔جی ایس ٹی اور ٹول ٹیکس وغیرہ جیسے غیر شرعی اور ظالمانہ ٹیکسوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ آئین کے تحت اسمبلیوں کے پاس سرمایہ دارانہ نظام سے پھوٹنے والے ان غیر اسلامی ٹیکسوں کو قانونی بنانے کا اختیار موجود ہے اور عدالت انہی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہے۔مزید برآں موجودہ نظام میں صدر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قاتل کو بھی معاف کر سکتا ہے، جسے ایک جج نہیں روک سکتا۔لہٰذا جب تک عدلیہ سے متعلق تمام امور مثلاً جرم کا تعین کرنے والے قوانین،گواہیوںسے متعلق قوانین، سزا کی نوعیت اور معافی کے اختیار سے متعلق قوانین وغیرہ کو تبدیل کر کے اسلامی احکامات کے مطابق نہ بنایا جائے اس وقت تک معاشرے میں عدل و انصاف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔خلافت میں عدلیہ سے متعلق تمام ترقوانین کو قرآن وسنت سے اخذ کیا جائے گا، تب ہی لوگوں کو حقیقی انصاف فراہم ہو سکے گا۔

 خلافت میںایک کافر یا مشرک شخص مسلمانوں پر قاضی نہیں بن سکتا:

            ایک کافر یا مشرک مسلمانوں کا قاضی نہیں بن سکتاکیونکہ وہ اس اسلامی قانون پر ایمان ہی نہیں رکھتا اور نہ ہی اسلام کے قانون کو انصاف سمجھتا ہے جبکہ خلافت میں تمام فیصلے اسلام کے احکامات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔قاضی صرف اسی شخص کو مقرر کیاجاسکتا ہے جو مسلمان، عاقل، بالغ، عادل اور فقیہہ ہو۔قاضی مظالم کے لئے مجتہد ہونا بھی ضروری ہے۔

 

معاشرتی نظام

اللہ کی رضا کے حصول کے لیے معاشرے میں مرد و عورت کا کردار

خلافت میں معاشرتی نظام کرپٹ مغربی اقدار کے بجائے اسلامی احکامات پر مبنی ہوگا:

            معاشرتی نظام، معاشرے میں مرد اورعورت کے تعلقات کی تنظیم کرتا ہے۔خلافت میں رائج معاشرتی نظام کرپٹ مغربی اقدار کے بجائے اﷲ کے احکامات پر مبنی ہوگا۔آج مغرب اﷲ کے دیے ہوئے قوانین سے بغاوت کر کے ''شخصی آزادی'' کے اصولوں پر چل رہا ہے جو اس کے معاشرہ کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔چنانچہ شخصی آزادی کے مطابق ایک شخص اس امر میں آزاد ہے کہ وہ جس طرز کا چاہے عریاں لباس زیبِ تن کرے یا اپنی جنسی تسکین کے لئے چاہے تو حلال ذریعے استعمال کرے یا حرام۔اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ مغرب میں مردو زن کی غالب اکثریت شادی کے بغیر تعلقات استوار کرتی ہے۔چنانچہ مغرب میں نئی پود کی اکثریت والد کی سرپرستی سے محروم ہے اور عورت ہی معاشی طور پر گھر چلانے کی اکیلی ذمہ دار ہے جس کی وجہ سے بچہ باپ اور ماں دونوںکی نگہداشت سے محروم ہو گیا ہے۔

            اسلام میں انسان ''آزاد'' نہیں بلکہ اﷲ کا عبد (غلام) ہے اور وہ اجتماعی امور کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی امور میں بھی اﷲ کے احکامات پر چلنے کا پابند ہے۔نیز یہ ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ اِس امر کو یقینی بنائے کہ اس کے شہری اجتماعی اور ذاتی امور میں اﷲ کے احکامات کی اتباع کریں۔لہٰذا خلافت میں کسی کو بھی ''شخصی آزادی'' کے نام پر نہ توشراب پینے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی زنا کرنے کی چھوٹ۔اور اﷲ کے احکامات ہی معاشرے کے تعلقات استوار کرنے کی بنیاد اور انفرادی اعمال کو پرکھنے کے لئے معیاراور کسوٹی ہوں گے۔

مرد و عورت کواﷲ کی طرف سے عطا کردہ حقوق اور فرائض ''برابری'' (Equality) کے مغربی اصول کی بجائے مرد و زن کی فطری صلاحیت کے مطابق ہیں:

            مرد و زن دونوں کا خالق اﷲ تعالیٰ ہے۔اور انسانی نسل کی بقا کا دارومدار ان دونوں کے ملاپ اور معاشرے میں دونوں کے موجود ہونے پر ہے۔اللہ کے نزدیک کسی ایک جنس کو دوسری جنس پر کسی قسم کی کوئی فوقیت حاصل نہیں۔اﷲ کے نزدیک فوقیت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔اللہ سبحانہ و تعالی نے ارشاد فرمایا:(یَا أَیُّہَا النَّاسُ ِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ)''اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچان سکو۔بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جواللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے''(الحجرات: 13)۔چنانچہ ایک عورت اور مرد دونوں اﷲ کے احکامات کی اتباع کرتے ہوئے ہوئے جنت کا بلند ترین درجہ حاصل کرسکتے ہیں۔اللہ نے مرد و عورت دونوں کو بطورِ انسان اس قابل بنایا ہے کہ وہ زندگی کے میدان میں داخل ہوں اور ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کریں۔اور اللہ نے ان میںتمام انسانی صفات اور زندگی کی لازمی ضروریات ودیعت فرمائی ہیں مثلاً جسمانی حاجات، جبلتیں اور سوچنے کی صلاحیت۔تاہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جنس کے لحاظ سے انہیں مختلف بنایا ہے۔

             ایسے میں جن صلاحیتوں میں مرد و زن مماثل ہیں خالق نے ان میں دونوں کو ایک جیسی ذمہ داریاں سونپی ہیں مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوة، والدین کی اطاعت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ۔جبکہ وہ صلاحیتیں جن میں مرد و عورت میں تفاوت پایا جاتا ہے اﷲ نے اس ضمن میں ان کو ذمہ داریاں بھی مختلف عطا کی ہیں مثلاً جہاد مرد پر فرض ہے عورت پر نہیں، نان نفقہ کی ذمہ داری مرد پر ہے عورت پر نہیں، پس اگر عورت کام کرے تو اس کے پیسوںپر مرد کو کوئی شرعی حق حاصل نہیں۔مرد وعورت کی صلاحیتوں میں مماثلت اور اختلاف کامکمل ادراک صرف خالقِ کائنات ہی کے پاس ہے کیونکہ خالق نے ہی یہ صلاحیتیں ان کو عطاکی ہیں۔تاہم بجائے یہ کہ مغرب انسانی عقل کے محدود ہونے کی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اﷲ کی طرف رجوع کرتا اس نے مرد و زن کو بعینہ ایک جیسا قرار دے کر ان پر ''برابری'' کا لیبل چسپاں کر دیا۔جس کے نتیجے میں انہوں نے تقریباً ہر معاملے میں عورت اور مرد کے حقوق اور ذمہ داریاں یکساں قرار دے دیں۔چنانچہ عورت بھی کمانے اور محنت مزدوری کرنے میں برابر کی ذمہ دار بن گئی۔لیکن جسمانی طورپر مختلف ہونے کے ناطے بچہ جننے اور اس کی رضاعت کی ذمہ داریاں بدستور عورت ہی کے پاس رہیں۔یوں ''برابری'' کے نام پر مرد نے عورت پر اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی ڈال دیا۔خلافت مرد و عورت کے تعلقات سے متعلق اسلام کے احکامات کو نافذ کرے گی اورپوری دنیا کی عورتوں کو مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال سے نجات دلائے گی۔

معاشرے میں مسلمان عورت کا کردار کیا ہو گا:

            معاشرے میں عورت کی اولین ذمہ داری اس کا گھرہے اور اس کا اولین کردار بحیثیت ماں اور بیوی کا ہے۔گھر کے امور کی دیکھ بھال اور بچو ںکی پرورش بذاتِ خود بہت بھاری ذمہ داری ہے۔لیکن اگر ایک خاتون پر یہ ذمہ داری موجود نہیں یا وہ اس ذمہ داری کا حرج کئے بغیر کوئی جائز پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کی مکمل اجازت ہوگی۔پس عورت بھی زراعت،صنعت و حرفت،تجارتی معاہدے اورمعاملات کر سکتی ہے۔چنانچہ ایک عورت ڈاکٹر،استاد،انجنئیر، سائنسدان، قانون دان (مجتہد)، سرکاری ملازم، سیاستدان اور مجلسِ اُمت کی رکن ہوسکتی ہے۔نیز وہ منقولہ وغیر منقولہ جائیدادکی ملکیت رکھ سکتی ہے۔البتہ وہ ایسے عہدے پر فائز نہیں ہوسکتی جس میں اس کی نسوانیت کو استعمال کیا جاتا ہو مثلاً ماڈلنگ،ائر ہوسٹس، سیکریٹری وغیرہ۔نیز وہ حکمران بھی نہیں بن سکتی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کوجب یہ خبر ملی کہ اہل ِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو حکمران بنا لیا ہے تو آپ انے ارشاد فرمایا:((لن یفلح قوم ولوأمرھم امرأة))''وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپنا حکمران بنالے''(بخاری)

عورت کی ضروریات کو پورا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے:

            عورت کی ضروریات کو پورا کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے۔اگر وہ کسی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہو تو پھر یہ ذمہ داری قریبی رشتہ داروں پر ہے۔اگر ایک گھرانے کا کوئی کفالت کرنے والا نہ ہو تو ایسے میں ریاست اس کے نان نفقہ کی ذمہ دار ہوگی۔

 خلافت میں مرد و عورت کے تعلقات کس طرح منظم کیے جائیں گے:

            عورتوں اور مردوں کے عمومی اختلاط اور مخلوط محافل کی ممانعت ہو گی سوائے ان جائز شرعی معاملات کے جن میں عورت و مرد کا اختلاط درکار ہو،مثال کے طور پرتجارت، خریدوفروخت، اجارہ، وکالہ، کفالہ اور ان جیسے دیگر مباح امور کی ادائیگی کے لیے، یا پھر فرائض مثلاحج اور زکوة کی ادائیگی کے دوران، یا مندوب اعمال مثلاصدقہ وخیرات،مساکین کی خدمت اور مریض کی تیمارداری کے لیے۔ لہٰذا ان تمام مقاصد کے لیے شریعت کے مقرر کردہ لباس میں عورت گھر سے باہر جا سکتی ہے۔

            مرد اور عورت کو اکیلے تنہائی میں ملنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یعنی ایک عورت ایک نا محرم مرد کے ساتھ کسی ایسی جگہ پر موجود نہیں ہو سکتی جہاں کوئی تیسرا شخص موجود نہ ہو یا کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر اس جگہ یا کمرے میں نہ آسکتا ہو۔ آپ انے ارشاد فرمایا: ((لا یخلون رجل بامرائہ الا مع ذی محرم)) ''کوئی بھی مرد کسی بھی عورت کے ساتھ تنہائی میں موجود نہ ہو، ما سوائے یہ کہ اس عورت کے ساتھ اس کا محرم موجود ہو'' (بخاری)۔ نیز عورت کے لیے گھر سے نکلنے سے قبل اپنے عمومی گھریلو لباس کے اوپر جلباب پہننا فرض ہے جو کندھوں سے لے کر پائوں تک لمبا ہونا چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مبارک میں ارشاد فرمایا: (یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْْہِنَّ مِن جَلَابِیْبِہِن) ''اے نبی ا! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنین کے عورتوں سے کہہ دو کہ وہ جسموں پراپنی چادریں (جلابیب) پوری طرح لٹکا لیا کریں'' (الاحزاب:59)۔ اسی طرح مردوں کے لئے لباس کی کم از کم حد یہ ہے کہ وہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک جسم کو ڈھانپے رکھیں۔

خلافت میں اسلام کے معاشرتی احکامات کا نفاذ ایک پاکیزہ اور پر سکون معاشرے کو جنم دے گا:

            آج پاکستان کا معاشرہ مغرب کے سرمایہ دارانہ معاشرے کا ہی عکس ہے، جہاں جنسی جرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔نظام کی طرف سے مخلوط محفلوں، فحاشی اور عریانی کی حوصلہ افزائی ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے۔ اخلاق باختہ فلموں کی فراوانی اور عام دستیابی، عریاں سٹیج ڈراموں اور رقص و سرور کی محفلیں نوجوانوں کے فطرتی جذبات کو بھڑکاتی ہیں اور وہ انہیں پورا کرنے کے لیے اللہ کی مقرر کردہ حدوں کو عبور کر تے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ مغرب کے معاشرے میں بسنے والے لوگوں کی مانند اطمینان اور آسودگی کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔ خلافت میں اسلام کے معاشرتی احکامات کا نفاذ ایک پاک صاف اور مہذب معاشرہ جنم دیتا ہے، جہاں مرد و زن پُروقار انداز میں اپنے روز مرہ کے کام سرانجام دیں گے، جہاں ایک عورت ایک کاروباری شئے کے طور پر نہیں دیکھی جائیگی بلکہ اس کی شناخت ایک عفت و آبرو اورفعال شہری کی ہو گی، جہاں نوجوانوں کے اذہان کو کرپٹ تصورات سے محفوظ رکھا جائے گا اور ان کی تربیت اس انداز سے کی جائے گی کہ ان کا دل تقویٰ سے معمور ہو اور انہیں ایسا ماحول مہیا کیا جائے گا جہاں وہ اپنے فطرتی جذبات کو شریعت کی حدود و قیود میں رہتے ہوئے پورا کر سکیں اور اپنی توجہ اسلام کے متعین کردہ اعلیٰ مقاصد کے حصول کی طرف لگا سکیں۔ اور وہ لوگ جو اس کے باوجود اللہ کی حدوں کو پامال کریں گے انہیں سب کے سامنے سخت سزا دی جائے گی تاکہ وہ تمام معاشرے کے لیے نشانِ عبرت بن جائیں۔

 

میڈیا اور اطلاعات

باخبر اُمت

خلافت میں میڈیا داخلی طور پر مسلمانوں کو مربوط کرنے میں اہم کردار اداکرے گا:

             ریاست، امتِ مسلمہ کی وحدت اور پوری انسانیت تک اسلام کے پیغام کو لے جانے کے لیے درست اطلاعات اور معلومات کا حصول ایک لازمی امر ہے۔داخلی طور پرخلافت کا میڈیا ایک قوی اور متحد و مربوط اسلامی معاشرے کی تشکیل کرے گا، لوگوں میں اسلام کے افکار کو راسخ کرے گا، ان میں اسلام کے جذبات و احساسات کو پروان چڑھائے گا اور فاسد افکار کے فاسد ہونے اورغلط تصورات کے غلط ہونے کو کھول کر بیان کرے گاتاکہ امتِ مسلمہ بیرونی فکری وثقافتی یلغار اور اجنبی تصورات کے خلاف مضبوط ہو۔یوں خلافت کا میڈیاایسے معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا جو خباثت کو نکال باہر کرے اور طیب چیزوں کو فروغ دے۔

             میڈیا کسی بدعنوانی اور کرپشن کو بے نقاب کرنے اور خلیفہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے میں خود مختار ہوگا۔البتہ ایسی خبریں جن کا تعلق جنگی حکمتِ عملی، خارجہ اُمور یا ایسی معلومات سے ہو جس کے آشکار کرنے سے ریاست کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہو، تو وہ ریاست کی اجازت کے بغیر نشر یا شائع نہیں کی جائیں گی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:(وَِذَا جَاء ہُمْ أَمْر مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِہِ وَلَوْ رَدُّوہُ ِلَی الرَّسُولِ وَِلَی أُوْلِیْ الأَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُمْ )''اور جب ان کے پاس خوف یا امن کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں۔اگر وہ اسے رسول ااور اپنے میں سے اہلِ اقتدار کے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے''(النسائ: 83 ) اس کے علاوہ میڈیا کسی بھی خبر کو نشر کر سکے گا بشرطیکہ وہ سچ پر مبنی ہو اور اسلام کے احکامات کے منافی نہ ہو۔

خلافت میں میڈیا عالمی سطح پر اسلام کی عظمت اور اسلامی ریاست کی طاقت وقوت کو پیش کرے گا:

             خارجی طور پرخلافت کامیڈیا اسلام کو امن اور جنگ کے دوران اس انداز میں پیش کرے گا،جو اسلام کی عظمت، اس کے عدل اور اس کی فوجی ہیبت کو بیان کرے۔نیز خلافت کا میڈیا انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کے فساداور ظلم کو بیان کرے گا اوردشمن افواج کی کمزوری کو آشکار کرے گا۔اور یوں میڈیاخارجہ پالیسی سے متعلق اہداف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

کسی بھی شخص کو اخبار، چینل یا نشریاتی ادارہ کھولنے کی اجازت ہو گی:

            ریاست کے ہر شہری کو اپنا اخبار، چینل یا کوئی بھی نشریاتی ادارہ کھولنے کی اجازت ہوگی اور اسے کسی قسم کے این او سی (No Objection Certificate) کی ضرورت نہیں ہوگی۔البتہ اسے ریاست کے متعلقہ ادارے کو مطلع کرنا ضروری ہوگا۔اس میڈیا کا مالک اور ایڈیٹر اس پر نشر ہونے والی ہر خبر کے ذمہ دار ہوں گے۔اورریاست کے کسی بھی شہری کی مانند، میڈیا پر نشر یا شائع ہونے والی کسی چیز کے خلافِ اسلام ہونے پر ان کا بھی محاسبہ کیا جائے گا۔

 

خارجہ پالیسی

دعوت و جہاد کے ذریعے انسانیت کو کفر کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے نور کی طرف لے جانا

دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات اسلام کے احکامات کی بنیاد پر استوار کئے جائیں گے:

            یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گذشتہ کئی دھائیوں سے پاکستان کی خارجہ پالیسی خطے میں امریکہ کے مفادات کی تکمیل کے گرد گھوم رہی ہے۔اقتدار میں آنے والی ہر حکومت نے امریکہ کے مفادات کی خاطر اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کو قربان کیا اور استعماری ممالک کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے ہی وسائل اور افواج کو استعمال کیا جاتا رہا۔

            خلافت اس غلامانہ خارجہ پالیسی کا خاتمہ کرے گی۔خلافت کی خارجہ پالیسی کی بنیاد اسلام ہوگی۔اسی بنیاد پر خلافت دیگر ریاستوں کے ساتھ تعلقات استوار کریگی،خواہ وہ تعلقات اقتصادی ہوں یا سیاسی، ثقافتی ہوں یا تعلیمی۔حتیٰ کہ تمام خارجہ امور میں اس بات کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ اسلامی دعوت کو بہتر سے بہتر انداز میں پوری انسانیت تک پہنچایا جائے۔اسلامی ریاست کے دیگر ریاستوں اور حکومتوں کے ساتھ تعلقات درج ذیل انداز سے استوار ہونگے :

1) مسلم علاقوں پر قائم حکومتوں کے ساتھ تعلقات:

             اسلامی ممالک دراصل امتِ مسلمہ کے جسم کے وہ ٹکڑے ہیں جنہیں استعماری کفار نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے علیحدہ علیحدہ کیاتھا۔شریعت کی رو سے انہیں ایک ریاست کی شکل میں وحدت بخشنا فرض ہے۔یہی وجہ ہے کہ خلافت اپنے قیام کے بعد ان حکومتوں کے ساتھ تعلقات کوخارجہ امورتصور نہیں کریگی، بلکہ خلافت اسلامی ممالک میں قائم کفریہ حکومتوں کو ختم کرکے تمام اسلامی علاقوں کو خلافت کے پرچم تلے وحدت بخشے گی۔

2) غیر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات :

            اول: وہ ممالک جو مسلمان علاقوں پر قابض ہیں یا مسلمانوں پر عملاً جارحیت میں ملوث ہیں مثلاً امریکہ، برطانیہ، اسرائیل، بھارت وغیرہ تو ان کے ساتھ تعلقات دار الحرب فعلاً (عملی حالتِ جنگ) کی بنیاد پر استوار کیے جائیں گے۔چنانچہ ان ممالک کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی، اقتصادی، ثقافتی یا سیاحتی تعلقات استوار نہیں کئے جائیں گے اور نہ ہی ان کے شہریوں کو خلافت میں آنے کی امان دی جائیگی۔ان ممالک کے ساتھ ریاست کے تعلقات کی نوعیت عملی حالتِ جنگ کی بنیاد پر ہی ہوگی، خواہ ان کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہی کیوں نہ ہو جائے۔چنانچہ ان ممالک کے ساتھ سفارتی، تجارتی، ثقافتی تعلقات بدستور معطل رہیں گے۔

            دوئم: ایسے استعماری ممالک جو ابھی تک مسلم علاقوں پر قابض تو نہیں ہوئے لیکن وہ مسلم علاقوں کو ہڑپ کرنے کے درپے ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات نہیں ہوںگے۔البتہ ان ممالک کے شہریوں کو ہماری ریاست میں سنگل اینٹری ویزے کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

            سوئم: مندرجہ بالا ریاستوں کے علاوہ دیگر کافر ریاستوں کے ساتھ خلافت کو تعلقات استوار کر نے کی اجازت ہوگی۔اور وہ عالمی سیاسی صورتِ حال اور مخصوص اہداف کے حصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان میں سے جن ممالک سے چاہے معاہدات کرے اور جن کے ساتھ چاہے معاہدات کرنے سے انکار کرے۔یہ معاہدات اقتصادی، تجارتی، اچھی ہمسائیگی یا ثقافتی نوعیت کے ہوسکتے ہیں، تاہم اِن معاہدات کا اُن احکامات کے مطابق ہونا لازمی ہے جو اسلام نے معاہدات کے متعلق بیان کیے ہیں۔

            ریاستِ خلافت امت کے وسیع تیل، گیس اور معدنیات کے ذخائر، فوجی طاقت، دنیا میں اپنی سٹریٹیجک پوزیشن، سیاسی بصیرت، بین الاقوامی صورتِ حال سے گہری آگاہی، امتِ مسلمہ کی طاقت اور بے پناہ جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بات کویقینی بنائے گی کہ وہ عالمی سطح پرسیاسی تنہائی کے خطرے سے محفوظ رہے۔

خلافت دعوت اور جہاد کے ذریعے اسلام کوپوری دنیا تک پہنچائے گی:

             جہاد کے معنی اللہ کے دین کوسر بلند کرنے کے لیے عملاً جنگ میں حصہ لینا یا مال اور زبان کے ذریعے اس قتال میں براہِ راست مدد کرنا ہے۔جہاد اسلام کی دعوت کو پوری دنیا تک پہنچانے کا عملی طریقہ کار ہے۔موجودہ دور میں اسلامی ریاست اور جہاد کی عدم موجودگی میں اسلام کی دعوت غیر مسلموں کے لئے محض ایک خوبصورت تھیوری بن کر رہ گئی ہے جسے وہ عملاً دنیا کے کسی کونے میں بھی نافذ العمل نہیں پاتے۔غیر مسلموں کے لئے اسلام کی بہترین دعوت اُنہیں اسلامی معاشرے میں زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اس بات کو واضح طور پر پہچان لیں کہ اسلام ہی واحد سچا دین ہے۔پس اسلام مسلمانوں پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ وہ اس نظام کو ایک خطے میں نافذ کریں اور پھر جہاد کے ذریعے اسے پوری دنیا تک عملاً لے کر جائیں۔دعوت کا یہی وہ طریقہ ہے جسے آپ ﷺ نے اختیار کیا اورآپ اکے بعد خلفائے راشدین نے بھی اسلام کو پھیلانے کے لیے جہاد کو جاری رکھا۔

پوری انسانیت کو ظلم سے نجات دلانا اُمت مسلمہ کی ذمہ داری ہے:

            اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کربھیجا اور آپ ﷺ کا لایا ہوا نظام پوری انسانیت کے لئے رحمت ہے۔چنانچہ اس کا دائرہ کار محض مسلمانوں تک محدود نہیں۔بلکہ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری پوری انسانیت کو ظلم سے نجات دلانا ہے جو آج انسانوں کے خود ساختہ نظاموں، قوانین اور روایات کی وجہ سے ظلم کا شکار ہے۔اگر ایک شودر کو ہندو معاشرے میں جانور سے بھی بدتر گردانا جاتا ہے تو اسے محض اس لئے برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ ''بقائے باہمی'' کے اصول کے تحت ہندوستان میں جو کچھ ہوتا ہے یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔آج دنیا میں ظلم کا یہ حال ہے کہ امریکہ پر قابض کارپوریٹ کمپنیوں کا ٹولہ ایک عام امریکی کے پیسے اور خون سے پوری دنیا میں جنگیں لڑتا ہے۔یہ ظلم انفرادی طور پر نہیں ہورہا بلکہ اسے قانونی حیثیت دے کر نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور یوں پورا معاشرہ اس ظلم کا شکار ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اﷲ کے بتائے ہوئے احکامات کے علاوہ انسان جب بھی کسی دوسرے نظام سے حکومت کرتا ہے تو عوام لامحالہ ظلم کا شکار رہتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی قرآن میں اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے، ارشاد فرمایا: (وَمَن لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَُولٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُونَ)'' اورجو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے فیصلہ نہ کرے تو ایسے لوگ ہی ظالم ہیں''۔خلافت محض مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو کفریہ نظاموں کے ظلم سے نجات دلائے گی۔چنانچہ مظلوم انسانیت کو اسلام کے بطورِ نظام نفاذ کی برکات و ثمرات سے دور رکھنے میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ بزورِشمشیر کیا جائیگا۔

صرف کم سے کم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی پالیسی (minimum deterrence) اسلام سے کھلم کھلا متصادم ہے خلافت اسے اختیار نہیں کرے گی:

            پاکستان کی فوجی حکمتِ عملی دفاع کے نظریے پر مبنی ہے اور اسی نظریہ کی بنیاد پرکم سے کم ڈیٹرنس(minimum deterrence) کی بات کی جاتی ہے یعنی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس حد تک گھٹایا جائے جس سے فقط ملکی دفاع ہی ممکن ہو۔یہ دفاعی نظریہ درحقیقت قومی ریاستوں (nation states)کے بارے میں سرمایہ دارانہ نقطہ ٔ نظر کی پیداوار ہے جس کے مطابق ہر قوم مقررہ سرحدوں کے اندرمقید رہتی ہے اورمزید علاقوں کو اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش نہیں کرتی اور اسے پر امن بقائے باہمی (peaceful co-existence) کا نام دیا جاتا ہے۔مغرب ان تصورات کا پر چار بظاہر اس لیے کرتا ہے تاکہ دنیا کی مختلف ریاستوں کے مابین نام نہاد انصاف اور ہم آہنگی پیدا کی جاسکے، لیکن دراصل مغرب اس نظریہ کے ذریعے دنیا کو دھوکہ دینے اور بڑی طاقتوں کی حیثیت سے اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ یہ عالمی طاقتیں عالمی امور پر غلبہ اور کنٹرول برقرار رکھ سکیں۔عالمی برتری کے حصول کا واحد قابلِ عمل طریقہ یہی ہے کہ تمام دنیا پر اپنی فوجی طاقت کا اثر و رسوخ قائم کیا جائے لہٰذا یہ بڑی طاقتیںاپنے لیے کبھی بھی minimum deterrenceکی بات نہیں کرتیں۔بلکہ وہ فوجی صلاحیتوں کے بلند ترین معیار کے حصول کے لیے ہر ممکن حد تک کوشاں رہتی ہیں،جبکہ یہی طاقتیں دنیا کے باقی تمام ممالک پر زور دیتی ہیں کہ وہ کم سے کم دفاعی صلاحیت (minimum deterrence) پراکتفا کریں۔تاکہ ان کے علاوہ باقی تمام ممالک بدستور کمزور رہیں اور بڑی طاقتوں کی برتری کو چیلنج نہ کر سکیں۔لہٰذا اگرچہ بڑی طاقتوں نے اپنے فوجی شعبوںکے نام '' شعبہ دفاع'' یا ''وزارتِ دفاع '' رکھ دیے ہیں جبکہ درحقیقت یہ بدستور ''شعبۂ جنگ'' اور ''وزارتِ جنگ'' ہی ہیں جوکہجارحانہ فوجی نظریہ کے مطابق فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے کوشش کرتے رہتے ہیں۔

             خلافت علیٰ منہاجِ نبوت کبھی بھی (minimum deterrence)کی پالیسی اختیار نہیں کرے گی۔اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:( وَ َعِدُّ واْ لَھُمْ مَّااسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَ مِنْ رِّبَاطِ الْخَےْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہِ عَدُوَّ اﷲِ وَعَدُوَّ کُمْ وَئَ اخَرِےْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لاَ تَعْلَمُوْنَھُمُ اﷲُ ےَعْلَمُھُمْ )'' اورتم اپنی مقدور بھر قوت اور گھوڑوں کو ان کے لیے تیاررکھو، تا کہ اس سے تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوف زدہ کرو اور اس کے سوا اُن کو بھی جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے''(الانفال:60)۔یہ آیت کم سے کم پسپائی کی صلاحیت (minimum deterrence) رکھنے کے نظریہ کی تردید کرتی ہے۔

 خلافت سی ٹی بی ٹی،این پی ٹی یا اس نوعیت کے کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گی:

             سی ٹی بی ٹی،این پی ٹی اور اسی نوعیت کے دیگر معاہدات استعماری طاقتوں نے دیگرریاستوں کی طاقت کو محدود رکھنے کے لیے تیار کئے ہیں۔جبکہ خلافت اپنی فوجی طاقت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کی پالیسی اختیار کرے گی تاکہ جہاد کے فرض کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔لہٰذاخلافت ایسے معاہدوںکو کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گی خواہ یہ قبولیت مشروط ہو یا غیر مشروط۔

استعماری ممالک کے ساتھ فوجی معاہدے بیرونی طاقتوں کے مفادات کو پورا کرتے ہیں،خلافت ایسے تمام معاہدوں کو منسوخ کر دے گی:

             پاکستان نے امریکہ اور دیگراستعماری ممالک کے ساتھ فوجی اور سیاسی معاہدات کر رکھے ہیں، جس کے نتیجے میں آج مسلم ممالک کی افواج، انٹیلی جنس اور پولیس امریکہ کی اسلام کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہی ہے۔اسلام کی رو سے ایسے تمام معاہدات مثلاً کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنا اور اس میں کفار ممالک کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنا، قطعاًحرام ہیں۔نیز ایسے تمام معاہدات بھی جائز نہیں جن کی وجہ سے کفار کو مسلمانوں پر اتھارٹی حاصل ہواورانہیں خلافت کے امور میں مداخلت کا موقع ملے یا خلافت کے اندر انہیں اثرو رسوخ حاصل ہو جائے یا مسلمانوں کی سیکورٹی کفار کی مرہون منت بن کر رہ جائے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : (وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً)''اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مومنین پر ہر گز کوئی راستہ (اختیار یا غلبہ )نہیں دیا''(النسائ:141)۔پس خلافت ان تمام معاہدات میں شمولیت سے مکمل انکار کرے گی۔

خلافت میں دیگر ممالک کے سفارتی اہلکاروں کواسلامی ریاست کے شعبہ خارجہ کے عہدیداروں کے علاوہ کسی کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہ ہوگی:

            یہ بات پاکستان کا ہر مسلمان محسوس کر تا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی امور پر استعماری ممالک خصوصاً امریکہ اور برطانیہ کاگہرا اثر و رسوخ ہے۔امریکی سفیر اورعہدیدار پاکستان آ کر الیکشن کمشن کے سربراہ، آرمی چیف، اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں حتیٰ کہ اسلامی پارٹیوں کی قیادتوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان میں اپنے مفادات کے لئے ایجنٹ تلاش کرتے ہیں۔اور یہ پاکستان کا نظام ہی ہے جو پاکستان کے حکمرانوں اورسیاست دانوں کو اس بات کی کھلی اجازت دیتا ہے۔

            خلافت میں خارجی امور کی عملاً دیکھ بھال کرناریاست کی ذمہ داری ہے جبکہ امت حکمرانوں کا محاسبہ کرکے خارجہ سیاست میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔لہٰذابیرونی سفارتکاروں کو اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ مختلف سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کریں۔صرف خلافت کاخارجہ امور کا ادارہ دیگر ممالک کے سفارتکاروں اور سفارتی عہدیداروں سے رابطہ کرے گا۔تاکہ دیگر ریاستوں کو خلافت کے اندر خلفشار پیدا کرنے اور سیاسی حلقوں میں اپنے ایجنٹ بنانے سے باز رکھا جاسکے۔

خلافت مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکہ،برطانیہ اور دیگر استعماری ممالک کو نہ تو دعوت دے گی اور نہ ہی ان سے مدد طلب کرے گی:

            آج پاکستان سمیت اسلامی دنیا کے ایجنٹ حکمران فلسطین اور کشمیر جیسے مسئلوں کے حل کے لیے انہی استعماری ممالک کی طرف رجوع کرتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں اور مسلمانوں کے امور کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے بیتاب ہیں۔حد تو یہ ہے کہ مسائل میں سے زیادہ تر انہی استعماری ممالک کے پیدا کردہ ہیں۔مسلمان حکمرانوں کی طرف سے ان استعماری طاقتوں کو مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کی دعوت اس وجہ سے نہیں ہے کہ یہ حکمران مسلمانوں کے بہتے ہوئے خون کی وجہ سے ان مسئلوں کو حل کرنے کے لیے بے قرار ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد از جلد ان مسئلوں کو نبٹایا جائے، بلکہ یہ حکمران تو وہ ہیں جن کے اپنے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور یہ تو ان استعماری ممالک کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں برابر کے شریک ہیں۔دراصل یہ حکمران اپنے آقائوں کے اشارے پر ہی ایساکرتے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ کو یہ باور کرایا جا سکے کہ وہ خود اپنے مسائل کو حل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی، اور یہ تأثر دیا جا سکے کہ بین الاقوامی سیاسی معاملات کو چلانا اور تنازعات کا تصفیہ کرنا ان استعماری طاقتوں کا ہی اختیار ہے، نیز مسلم علاقوں میں ان استعماری طاقتوں کے اثرو رسوخ میں اضافہ کیا جا سکے اور ان مسائل سے متعلق استعماری طاقتوں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

             خلافت مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکہ،برطانیہ اور دیگر استعماری ممالک کو نہ تو دعوت دے گی اور نہ ہی ان سے مدد طلب کرے گی۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:(اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِےْنَ ےَزْعُمُونَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَےْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ےُرِےْدُوْنَ اَنْ ےَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ اُمِرُوْآ اَنْ ےَّکْفُرُوْا بِہ ط وَےُرِےْدُ الشَّےْطٰنُ اَنْ ےُّضِلَّھُمْ ضَلٰلاً بَعِےْداً) '' کیا آپ انے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ایمان لائے ہیں، اس پر جو آپ اکی طرف اور آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا، وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت (غیر اﷲ) کے پاس لے جائیں حالانکہ ان کو حکم ہو چکا ہے کہ طاغوت کا انکار کر دیں۔شیطان چاہتا ہے کہ وہ ان کو بہکا کر دورجا ڈالے''(النسائ:61)۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: (لَاتَسْتَضِیْئُوْابِنَارِالْمُشْرِکِیْنَ) ''مشرکوں کی آگ سے روشنی بھی مت لو۔'' (النسائی)

 اقوام متحدہ،عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک استعماری طاقتوں کے آلہ کار ہیں، خلافت ان میں شمولیت اختیا رنہیں کرے گی:

            یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے مثلاًعالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) عالمی استعماری طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔مغرب جب چاہتا ہے اقوام متحدہ کی نگرانی میں مشرقی تیمور کو مسلم ملک سے الگ کر دیتا ہے لیکن کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل جس پر اس کی اپنی قرار دادیں موجود ہیں کھٹائی میں پڑے رہتے ہے۔خود امریکہ اور مغربی ممالک افغانستان اور عراق سمیت دیگر ممالک پر حملہ کرتے وقت اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، یہاں تک کہ اسرائیل جیسا حقیر ملک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پرواہ نہیں کرتا۔لیکن افسوس یہی ردی کا کاغذ مسلم حکمرانوں کے لئے آسمانی صحیفے سے بڑھ کر ہے۔اور جہاں تک ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں کا تعلق ہے تو یہ ادارے دنیا پر مغرب کے معاشی تسلط کو برقرار رکھنے کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔چنانچہ ان استعماری اداروں میں شمولیت کے نتیجے میں مغرب کو مسلمانوںکے امور میں اختیار اور ان پرغلبہ فراہم ہوتا ہے جو کہ شریعت کی رو سے حرام ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً )''اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو مومنین پر ہر گز کوئی راستہ (اختیار یا غلبہ )نہیں دیا''(النسائ:141)۔نیز ان تمام اداروں کی بنیاد ایسے چارٹر اور قوانین پر ہے جو اسلام کے احکامات سے براہِ راست متصادم ہیں۔لہٰذا خلافت کے لیے مندرجہ بالا اوران جیسی تمام تنظیموں میں شرکت حرام ہے۔بلکہ خلافت ان اداروں کی بالادستی کو ختم کرنے اور ان اداروں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے پوری شدت سے مہم چلائے گی تاکہ دنیا کو ان اداروں کے شر سے نجات دلائی جا سکے۔

 اسلام کے احکامات ہی ریاست کے خارجہ مفادات کا تعین کرتے ہیں:

             خلافت کی خارجہ پالیسی کی بنیاد اسلامی احکامات ہوتے ہیں اور اسلام کے احکامات کو پورا کرنا ہی امتِ مسلمہ کا مفاد ہے اور کوئی بھی ایسی پالیسی جو اسلام پر مبنی نہ ہو وہ مسلمانوں کا مفاد ہرگزنہیں کہلا سکتی۔چنانچہ خلافت میں قومی مفاد کے نام پر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے کفار کو اڈے فراہم کرنے، انہیں لاجسٹک سپورٹ اور انٹیلی جنس کی سہولیات مہیا کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہو تی۔

تمام دنیا کو آج اسلام پر مبنی خارجہ سیاست کی ضرورت ہے:

            آج مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی خارجہ سیاست دنیا میں ظلم، فساد اور شر کا باعث ہے۔استعماری ممالک دنیا کے وسائل کو چوسنے کے لیے جنگوں کی آگ بھڑکاتے ہیں اور انسانیت کو تباہی سے دوچار کرتے ہیں اور دنیا کی اقوام کو غلام بناتے ہیں۔خلافت دنیا کو اسلام کی خارجہ سیاست سے روشناس کرائے گی کہ جس کا مقصد دنیا کے وسائل پر قبضہ جمانا نہیں بلکہ انسانیت کو کفر کی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کے نور کی طرف لانا ہے۔اﷲ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشادفرمایا:(وَمَا أَرْسَلْنَاکَ ِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ) ''اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا''(الانبیاء : 107)۔

 

داخلہ پالیسی

اسلامی معاشرے میں یگانگت اور یکجہتی کا قیام

خلافت میں شہریوں کے ساتھ بلاتفریق مساوی سلوک کیاجائیگا:

            اﷲ سبحانہُ وتعالیٰ نے ارشادفرمایا:(وَمَا أَرْسَلْنَاکَ ِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ) ''اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا''(الانبیاء : 107)۔اسلام نے رنگ، نسل، مسلک و مذہب اور جنس کی تفریق کے بغیر تمام انسانیت کو مخاطب کیا ہے۔خلافت میں بسنے والے تمام لوگ اسلام کے نظاموں سے حاصل شدہ ثمرات و فوائد حاصل کر سکیں گے اور ان کی جان و مال اورعزت و آبرو کی حفاظت بلا تفریق کی جائیگی۔

            ماضی میںاسلام کے سائے تلے مسلمان اور غیر مسلم صدیوں تک ہم آہنگی اور سکون سے زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔خلافت میں ہر شہری خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے اوپراسلام کے کسی بھی حکم کے غلط نفاذ کے بارے میں رائے کا اظہار کر سکتا ہے یا حکمران کی طرف سے اپنے اوپر ہونے والے کسی بھی ظلم یا ناانصافی پر صدائے احتجاج بلند کر سکتا ہے۔اور تاریخ نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ جب عمر بن الخطاب نے خلافت میں بسنے والے عیسائیوں کو ان کا ادا کیا ہوا جزیہ واپس کرنے کا اعلان کیا کیونکہ اس وقت خلافت سلطنتِ روم کے حملے سے ان کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی،اس پر شام کے عیسائیوں نے آپ سے کہا کہ وہ جزیہ کی رقم واپس نہ کریں بلکہ اپنے پاس رکھیں نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ رومیوں کے خلاف مسلمانوں کی فتح کے لئے دعا کریں گے۔پندرھویں صدی عیسوی میں جب اندلس کے یہودیوں کو یورپ میں شدید قتل و غارت اور نسل کشی کا سامنا تھا تو یہ خلافت ہی تھی جس نے انہیں اپنی حدود میں رہائش اختیار کرنے، اپنی عبادت گاہوں میں مذہبی رسومات اداکرنے اور اپنی مذہبی تعلیمات حاصل کرنے کی اجازت دی۔صنعت و حرفت کے میدان میں کئی مقامات پر شیشہ سازی اور دھاتی اشیاء کی تیاری میں یہودیوں کا اہم کردار تھا۔اسی طرح تجارت کے میدان میں بھی یہودی غیر ملکی زبانوں سے آگاہی رکھنے کے باعث اطالوی تاجروں کے مقابلے میں خلافت کی بہتر نمائندگی کرتے تھے۔

            الغرض خلافت سینکڑوں سال تک مختلف اقوام کے مابین ہم آہنگی اور ان کی حفاظت کی ایک روشن مثال پیش کرتی رہی۔

خلافت میں اسلام پر مبنی مختلف مسالک اور مکاتبِ فکر کی اجازت ہو گی، خلافت کسی ایک مسلک کو باقی سب پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کرے گی:

            مختلف مکاتبِ فکر اور مسالک مثلاً حنفی، شافعی، حنبلی، جعفری اور مالکی مسالک کے مابین اختلافِ رائے اجتہاد کا نتیجہ ہے۔جب ایک مجتہد اخلاصِ نیت کے ساتھ شرعی نصوص کی بنیاد پر اجتہاد کرتا ہے اور دوسرے مجتہد سے مختلف رائے پر پہنچتا ہے تو ایسا اختلافِ رائے کوئی مسئلہ نہیں۔رسول اﷲانے فرمایا: ((ِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ َصَابَ فَلَہُ َجْرَانِ وَِذَا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ َخْطَأَ فَلَہُ َجْر)) ''جب ایک قاضی اجتہاد کرتا ہے اور درست نتیجے تک پہنچتا ہے اس کے لئے دو اجَر ہیں اور اگر وہ اجتہاد کرتا ہے اور غلط نتیجے تک پہنچتا ہے تو اس کے لئے ایک اجر ہے۔''(بخاری)

            اگرچہ خلیفہ انفرادی عبادات مثلاً نماز اور روزہ وغیرہ کے مسائل میںکسی ایک اجتہادی رائے کوتمام ریاست پر لاگو نہیں کرتا۔تاہم ریاستی معاملات میں خلیفہ کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ مختلف اجتہادات میں سے اُس اجتہاد کوبطورِ قانون نافذ کرے جس کی دلیل اس کے نزدیک مضبوط ترین ہو۔خلفائے راشدین نے اس معاملے میں عملی مثال قائم کی۔چنانچہ مالِ غنیمت کی تقسیم اور منکرینِ زکوة کے خلاف قتال کے معاملے میں ابوبکر اور عمر کی رائے میں اختلاف تھا تاہم ابو بکر نے اپنے دورِ خلافت میں اپنی اجتہادی رائے کو ہی نافذ کیااور عمر جو ابوبکر کے دورِ خلافت میں ان کے معاون تھے،نے ابوبکر کی رائے پرہی عمل کیا۔چنانچہ اس معاملے میںفقہی قاعدہ یہ ہے: ((امر المام یرفع الخلاف)) ''امام کا حکم اختلافات کو ختم کرتا ہے''۔

خلافت میں پولیس موجودہ نظام سے کیونکر مختلف ہو گی:

            پولیس کا محکمہ اندرونی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔تاہم پاکستان کی پولیس اور تھانہ کلچر لوگوں کے لیے ایک عذاب ہے۔لیکن اس کی اصل وجہ پولیس نہیں بلکہ انگریزوں کا چھوڑا ہوا استعماری نظام ہے۔انگریزوں نے پولیس کے محکمے کی تربیت اس انداز سے کی کہ پولیس کوبرصغیر میں بسنے والے لوگوں کوکچلنے اورانہیں دبانے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جائے کیونکہ انگریز جانتا تھا کہ برصغیر میں بسنے والے لوگ انگریزوں کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کرتے۔یہی صورتِ حال پاکستان کے موجودہ نظام کی ہے۔چونکہ لوگ اسلام چاہتے ہیں اور یہ نظام کھلم کھلا کفار کی پالیسیوں کو نافذ کر رہا ہے نیز یہ نظام لوگوں کے جذبات و احساسات اور سوچ کی نمائندگی نہیں کرتا اورپاکستان کے عوام مسلسل اس مسلط کردہ کفریہ نظام کو اپنے اوپر سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں لہٰذا یہ نظام عوام کو آہنی ہاتھوں سے دباتاہے اور اس کے لیے پولیس کو استعمال کرتا ہے۔علاوہ ازیں چونکہ پاکستان کے حکمران خود کرپٹ ہیں اور ان کا مطمع نظر اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرنا ہے لہٰذا کرپٹ محکمۂ پولیس پاکستان کے حکمرانوں کی ضرورت ہے، جو ان کے ظالمانہ اقدامات کو پورا کرنے سے انکار نہ کرے۔چنانچہ اس نظام میں ایک پولیس کے سپاہی کی تنخواہ چند ہزار روپے ہے جو اس کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی کافی نہیں، جس کی وجہ سے اس کا کرپشن کی طرف مائل ہونا نہایت آسان ہے۔

            خلافت کا قیام خود پولیس کے لیے بھی نجات اور اطمینان کا پیغام لے کر آئے گا، جہاں انہیں اسلامی تربیت کے علاوہ ان کے کام کی مناسبت سے اچھی تنخواہیں دی جائیں گی۔اور وہ اس چیز کو محسوس کریں گے کہ وہ امتِ مسلمہ کی جان، مال اور عزت کاتحفظ کر کے اسلام کی خدمت کر رہے ہیں اور ان کو ان کی محنت کا صلہ بھی مل رہا ہے۔

پاکستان کا موجودہ نظام بذاتِ خودجرائم کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، صرف خلافت ہی جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کو کنٹرول کر ے گی:

            جرائم کی انتہائی بلند شرح ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کا سرمایہ دارانہ نظام کے پاس کوئی حل موجود نہیں خواہ یہ مغرب کا معاشرہ ہویا پھرپاکستان۔کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ایسے افکار پر ہے جو معاشرے کو جرائم کی طرف دھکیلتے ہیں۔دین کی دنیاوی امور سے جدائی اور نتیجتاً دین کی بے وقعتی اور تقویٰ سے عاری معاشرہ، شخصی آزادی کا تصور، زیادہ سے زیادہ دنیا حاصل کرنے کا جنون، غیر مؤثر عدالتی سزائیں غرض یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام میں وہ سب کچھ موجود ہے جو مجرمانہ ذہنیت کوجنم دے اور اس کی حوصلہ افزائی کرے۔اگر معاشرہ ایسے تصورات پر استوار ہو توبہترین سائنسی اور تحقیقاتی آلات اور ''کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے ''کے بورڈزکی موجودگی بھی جرائم کی شرح کو قابو میں نہیں رکھ سکتی۔جبکہ عدالتی نظام کی فرسودگی اور پولیس کی ناقص تربیت جرم کرنے کے لیے ماحول کو اور بھی سازگار بنا دیتی ہے۔چنانچہ موجودہ نظام کبھی بھی پاکستان کے عوام کو امن و تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔

            خلافت مندرجہ بالا کفریہ تصورات سے معاشرے کو محفوظ رکھے گی جس کے نتیجے میں ایک پاکیزہ معاشرہ جنم لے گااورخلافت جرم کو رونما ہونے سے قبل ہی اس کی روک تھا م کر سکے گی۔جیسا کہ ماضی میں ہوا۔خلافت کے آخری چھ سو سالوںکا عدالتی ریکارڈ آج بھی مشرقِ وسطیٰ کے عجائب گھروں میں موجود ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلافت میں جرائم کی شرح انتہائی کم تھی۔چنانچہ ان چھ سو سالوں کے دوران صرف دو سو لوگوں کا ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹا گیا، جبکہ آج حالت یہ ہے کہ پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران دو سو چوریاں ہونا ایک معمولی بات ہے۔علاوہ ازیں لوگوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا، جو اسلامی ریاست پر فرض ہے، کی وجہ سے خلافت کے شہری باوقار زندگی گزارنے کو ترجیح دیں گے۔

خلافت تمام اسلامی علاقوں کو ایک پرچم تلے اکٹھا کرے گی:

             اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیاہے کہ ان سب کی ریاست ایک ہی ہو جس میں وہ ایک خلیفہ کی حکمرانی تلے زندگی بسر کریں۔رسول اﷲ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک خلیفہ کو بیعت دیں۔ارشاد فرمایا: ((کَانَتْ بَنُوْ اِسرَائِیلَ تَسُوسُھُمُ الاَنبِیَائُ ' کُلَّمَاھَلکَ نَبِیّ خَلَفَہُ نَبِیّ' وَاِنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعدِی ' وَسَتَکُونُ خُلَفَائُ فَتَکثُرُ ' قَالُوا: فَمَا تَمُرُنَا؟ قَالَ: فُوْا بِبَیْعَةِ الاَوَّلِ فَالاَوّلِ' وَاعْطُوہُم حَقَّھُم ' فَاِنَّ اللّٰہَ سَائِلُھُم عَمَّا اسْتَرعَا ھُم)ْ) ''بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے۔جب کوئی نبی وفات پاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا،جبکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے،بلکہ بڑی کثرت سے خلفاء ہوں گے۔صحابہ نے پوچھا: آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ انے فرمایا:تم ایک کے بعد دوسرے کی بیعت کو پوراکرو اور انہیں ان کا حق اداکرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھے گا' جو اُس نے انہیں دی''(مسلم)۔

            جوں ہی خلافت کسی ایک مضبوط مسلم ملک میں یا چندممالک میں اکٹھے قائم ہوگی تو وہ فوراً تمام مسلم ممالک کو اپنے اندر ضم کرنے کے جامع پروگرام پر عملدرآمد شروع کر دے گی،تاکہ مسلم امت وحدت اختیار کرسکے۔

            خلافت وحدت کا نظام ہے۔جس میں مغرب میں مراکش کو بھی وہی حیثیت حاصل ہوگی جو مشرق میں انڈونیشیاکو حاصل ہے۔ایک واحد امت ایک ریاست کے تحت بھرپور وسائل کی حامل ہوگی۔اس کے توانائی کے ذرائع، افرادی قوت، اراضی اور افواج دنیا کی کسی بھی موجودہ سپر پاور سے بڑھ کر ہوں گے اور یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کی عظیم ترین اور وسائل کے لحاظ سے خوشحا ل ترین ریاست ہوگی۔

خلافت او آئی سی کی حقیقت کو بے نقاب کریگی:

            دیگر استعماری مقاصد کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ او آئی سی کا قیام کا ایک اہم مقصد مسلمانوںکو حقیقی وحدت سے روکنا تھا۔استعمار جانتا تھا کہ امت میں موجود وحدت کی شدید خواہش انہیں دوبارہ خلافت کے قیام کی طرف مائل کر دیگی۔چنانچہ کفار کی جانب سے مسلمانوں کو ان کے ایجنٹ حکمرانوں کے ذریعے متبادل کے طور پرایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا گیا جو کروڑوں ڈالر ضائع کر کے امت کو قراردادوں اور مذمتوں کے سوا کچھ بھی نہ دے سکا۔اس پر مستزاد یہ کہ یہ وہی ادارہ ہے جس نے مسلم ممالک پر امریکہ کی یلغار کو ربڑ سٹیمپ کیا خواہ وہ افغانستان ہو یا عراق۔اوریہ او آئی سی ہی ہے کہ جس نے عراق میں امریکہ کی قائم کردہ ایجنٹ گورننگ کونسل اور حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لئے قراردادیں منظور کیں۔امت جان چکی ہے کہ او آئی سی ایک لولا لنگڑا اور گونگا بہرا ادارہ ہے جس سے مسلمانوں کے مفادات کے حصول کے لئے کوئی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔خلافت اس جیسے استعماری ادارے کا ہر گز حصہ نہیں بنے گی بلکہ اس کے اصل مقاصد کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کا خاتمہ کرے گی اور پچاس سے زائد مسلم ممالک کو ایک جھنڈے تلے وحدت بخشے گی، اور استعمار کے اس آلہ کار کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گی۔

خلافت مقبوضہ اسلامی علاقوں کو کفار کے تسلط سے آزادکرائے گی:

            رسول اﷲ ﷺ نے مسلمانوں کے امام (خلیفہ) کو ڈھال قرار دیا ہے، ارشاد فرمایا: ((نماالامام جنة یقاتل من ورائہ ویتقی بہ)) ''بے شک خلیفہ ہی ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر لڑا جاتاہے اور اسی کے ذریعے تحفظ حاصل ہو تاہے ''(مسلم)۔یہ حدیث اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ خلیفہ کی موجودگی کے کیا فوائد ہیں۔گو یا اس کی غیر موجودگی اسلام کے عدم تحفظ اور مسلمانوں کے لئے نقصان کا باعث بنتی ہے۔خلافت امت کی چالیس لاکھ سے زائد فوج، ہزاروں کی تعداد میں لڑاکا جہازوں اور لاتعداد ٹینکوں کو ایک ریاست کی کمان میں یکجا کریگی اور بذریعہ جہاد کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان سمیت تمام مقبوضہ علاقوں کو کفار کے تسلط سے نکال کر اسلامی خلافت کا حصہ بنائیگی۔نیز خلافت بیرونی طاقتوں یا اندرونی ایجنٹوں کی جانب سے پاکستان میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نبٹے گی۔

            ماضی میں خلافت صدیوں تک مسلم علاقوں کی حفاظت کرتی رہی۔سیدنا عمر بن الخطاب کے عہد میں خلافت نے شام و فلسطین کے علاقے کو اسلامی حکومت کی عملداری میں شامل کیا اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کو یکساں تحفظ اور امن وامان مہیا کیا۔اسی طرح خلافت کے جھنڈے تلے کمانڈر صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو آخری شکست سے دو چار کیا۔یہاں تک کہ خلیفہ کی غیر موجودگی میں بھی خلافت کے والیوں نے اسلامی علاقوں کا دفاع کر کے تاتاریوں کو شکست دی اور انہیںاسلامی سرزمین سے بے دخل کیا۔حتیٰ کہ اپنے آخری کمزور ترین دور میں بھی خلافت مسلمانوںکی نمائندگی کرنے میں آج کے دور کی او آئی سی سے کہیں بہتر تھی۔1901 ء میں ڈاکٹر ہرڈزل نے ایک صیہونی وفد کی قیادت کی اور خلافت کو اس کے عوض بھاری رقم کی پیش کش کی کہ وہ یہودیوں کو فلسطین میں بستیاں بنانے کی اجازت دے دے۔یہ وہ وقت تھا جب خلافت شدید مالی مشکلات سے دوچار تھی لیکن خلیفہ عبد الحمید الثانی نے اس وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اوراعلان کیا: '' میں فلسطین کی زمین کے ایک چپے سے بھی دستبردار نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ میری ملکیت نہیں کہ میں اسے کسی کو دے دوں بلکہ یہ امتِ مسلمہ کی ملکیت ہے۔میرے لوگوںنے اس زمین کے لئے جنگیں لڑی ہیں اور اسے اپنے خون سے سیراب کیا ہے۔یہودی اپنے پیسے اپنے پاس رکھیں،ہاں اگر کبھی کسی دن خلافت ختم ہو گئی تو وہ فلسطین کو بلا قیمت حاصل کرلیں''۔خلیفہ عبد الحمید کے یہ الفاظ بعد میں سچ ثابت ہوئے جب 28 رجب 1342ہجری (بمطابق 3مارچ 1924)کو خلافت کے خاتمے کے بعد ہی صیہونی ریاست کا قیام ممکن ہو سکا۔

            حتیٰ کہ ذاتی طور پر بد عنوان حکمران بھی اسلام کی خدمت کرنے پر مجبور تھے۔کیونکہ نظام انکے ہاتھ باندھ دیتا تھا کہ وہ ہر صورت اسلام کوہی نافذ کریں۔جب راجہ داہر نے برصغیر میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تو یہ حجاج بن یوسف ہی تھا جس نے محمد بن قاسم کی سرکردگی میں فوج روانہ کی اور بعد میں انہی فتوحات کے باعث بر صغیر میں اسلام کی روشنی پھیل گئی۔

 

تعلیمی پالیسی

خلافت کی تعلیم - دنیا کے لئے ایک مثال

خلافت دوہرے نظامِ تعلیم کی بجائے سب کو بلاتفریق تعلیم فراہم کرے گی:

            پاکستان میں دو طرح کا نظامِ تعلیم رائج ہے، ایک ایلیٹ کلاس کے لئے اور دوسرا عوام الناس کے لئے۔علاوہ ازیں موجودہ نظام عوام کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو ایک بوجھ تصور کرتا ہے اور پرائیویٹائزیشن کے نام پر یہ ذمہ داری اپنے کندھوں سے اتار کر عوام پر ڈال رہا ہے۔

            اس کے برعکس خلافت اعلیٰ معیار کی تعلیم عقیدے، مسلک، رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر ریاست کے ہر شہری کو مہیا کرے گی۔رسول اﷲ ﷺ نے مسلمانوں کی تعلیم کو اس حد تک اہمیت دی کہ آپ انے جنگِ بدر میںپکڑے جانے والے مشرک جنگی قیدیوں کا فدیہ دس دس مسلمانوں کو تعلیم دینا مقرر کیا۔یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو اتنی تعلیم فراہم کرے جو عمومی طور پر زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہے۔خلافت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ پرائمری اور سیکنڈری سطح کی تعلیم تمام شہریوں کو مفت فراہم کی جائے۔اور اعلیٰ تعلیم جہاں تک ممکن ہو سکے مفت فراہم کی جائے گی۔

نوجوان نسل کی اسلام کے مطابق شخصیت سازی نظامِ تعلیم کا بنیادی ہدف ہو گا:

            موجودہ نظام نوجوان نسل کو زندگی گزارنے سے متعلق کوئی واضح تصور نہیں دیتا۔علاوہ ازیں پاکستان کا تعلیمی نصاب اسلامی اور غیر اسلامی افکار کا بے ڈھنگا ملغوبہ ہے۔نوجوان نسل کو اسلام کے اعلیٰ افکار سکھانے کی بجائے نظامِ تعلیم کے ذریعے انہیں اسلام سے مزید دور کیا جا رہا ہے۔

            خلافت بچوں کے رجحانات، تصورات، اقدار اور عقائد کی بنیادصرف اسلام پر رکھے گی۔تمام نصابِ تعلیم اور تدریس کے اسلوب اس طریقے سے مرتب کئے جائیں گے کہ وہ اس بنیاد سے ہٹنے نہ پائیں۔تمام سرکاری اور غیر سرکاری یا نجی سکول اسی نصابِ تعلیم کو پڑھائیں گے۔اﷲ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:( یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَکُمْ وَأَہْلِیْکُمْ نَاراً وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ)''اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔'' (التحریم: 6)۔چونکہ اسلام میں دین اور دنیا کی تقسیم کا تصور نہیں اور دین چند لوگوں کی ذمہ داری نہیں اور ہر شخص کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان اسلامی احکامات سے آگاہ ہو جو زندگی گزارنے کے لیے اسے درکار ہیں لہٰذا نظامِ تعلیم کے ذریعے ہر مسلمان کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ ایسے اسلامی احکامات سے واقف ہو۔

ہر شعبۂ زندگی کے ماہرین کی تیاری:

            خلافت اس امر کو بھی یقینی بنائے گی کہ اس کے شہری ہر شعبۂ زندگی میں مہارت حاصل کریں۔خلافت میں تعلیم کے لیے علوم کو دو اقسام میں تقسیم کیا جائے گا: اسلامی علوم اور سائنسی علوم۔

            جہاں تک اسلامی علوم کا تعلق ہے تو طلبہ و طالبات کو اجتہاد، فقہ اور تفسیر جیسے مضامین پر عبور حاصل کرایا جائے گا۔اسی طرح سائنسی علوم کے حوالے سے خلافت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ طلبہ اور طالبات انجینئرنگ، کیمسٹری، فزکس اور میڈیکل کے شعبوں میں دنیا پر سبقت لے جائیں۔

            پس یہ وہی امت ہے جس نے سیاست، حکومت اور جہاد کے میدان میں غیر معمولی قابلیت کے حامل ابو بکر صدیقص، عمر فاروق ص، خالد بن ولیدص اور صلاح الدین ایوبی جیسے بطلِ جلیل پیدا کئے اور یہ وہی امت ہے جس نے فقہ اور سائنس کے شعبوں میں امام ابو حنیفہ، امام شافی اور الخوارزمی جیسے عظیم ماہرین کو جنم دیا۔چنانچہ خلافت ہی دوبارہ ایسے مفکرین، قانون دان(مجتہد) اور سائنسدان پیدا کرے گی۔

 زبان دانی سے متعلق علوم:

            معجزۂ قرآن کی اصل یہ ہے کہ قرآن عربی زبان کامعجزہ ہے۔مسلمان عربی زبان میں قرآن کی تلاوت کر کے اﷲتعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔چونکہ اﷲ کے احکامات اور نصوص عربی زبان میں ہیں،لہٰذا ایک قانون دان یا مجتہد عربی زبان کے علم کے بغیر اﷲ کے حکم کو نہیں جان سکتا اور نہ ہی کوئی فیصلہ دے سکتا ہے۔چنانچہ عربی ہی ریاست کی سرکاری زبان ہوگی اور ریاست عربی زبان کی تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کی قرآن سے دوری کا خاتمہ کرے گی۔

            غیر ملکی زبانیں اسلام کی دعوت کو تمام انسانیت تک پہنچانے اور مسلمانوں کے امور کی دیکھ بھال کے لئے پڑھائی جائیں گی، مثلاً مفید کتب اور تکنیکی وتحقیقی مقالوں وغیرہ کے تراجم کے لئے۔

خلافت ریاست کے اندر کسی ایسے تعلیمی ادارے کی اجازت نہیں دے گی جو بیرونی طاقتوں سے منسلک ہوں:

            خلافت اپنے شہریوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم خود مہیا کرے گی اور کسی بیرونی استعماری طاقت کے ساتھ منسلک تعلیمی اداروں کو اپنی شاخیں کھولنے کی اجازت نہیں ہو گی۔یوںاستعماری طاقتوں کی طرف سے خلافت کے نوجوانوں کے اذہان میں زندگی سے متعلق کرپٹ تصورات ڈالنے اور مسلمانوں میں اپنے فکری ایجنٹ پیدا کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

ایسا اسلوبِ تدریس اپنایا جائے گا جو ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کو چمکائے اور اعلیٰ سطح کے رویوںکو جنم دے:

            آج پاکستان میں رٹو طوطے کی طرح سبق رٹانے والا نظام طالبِ علم کو غبی اور کند ذہن بنا دیتا ہے۔کیونکہ اس طرزِ تعلیم میں معلومات کا تعلق اس حقیقت سے نہیں جوڑا جاتا جسے طالب علم خود براہِ راست محسوس کر سکے۔اسلام کے تحت طریقہ تدریس یہ ہو گا کہ استادمختلف اسالیب کے ذریعے طالب علم کی عقل کو سوچنے پر مجبور کرے تاکہ طالبِ علم کی ذہانت میں اضافہ ہو سکے۔

            اساتذہ کی تربیت اس طرح کی جائے گی کہ وہ طلباء کو اس طرح لیکچر دیں کہ جس کی بنیاد پر عقلی و فکری بحث و مباحثہ کا آغاز ہو سکے۔طلباء کے تمام حواس خمسہ کو استعمال میں لاتے ہوئے متعدد تصورات ان کے ذہنوں میں راسخ کئے جائیں گے۔

            جب بات ان افکار کی ہو کہ ایک مسلمان کا زندگی کے بارے میں نقطۂ نظر کیا ہونا چاہئے تو وہاں استاد اس بات کا خصوصی اہتمام کرے گا کہ طالب علم کے جذبات و احساسات مثلاً اس کی پسند نا پسند کو اسلام کے مطابق پروان چڑھایا جائے۔تا کہ بچہ وہی عمل کرے جس کا اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔

            اور جب بات ان افکار کی ہو رہی ہو جن کازندگی سے متعلق کسی خاص نقطہ نظر سے تعلق نہیں ہے مثلاً فزکس، حساب، کیمسٹری، تو انہیں اس طرح پڑھایا جائے گا کہ وہ امت کے لئے زیادہ سے زیادہ فائدے کا باعث بنیں،تاکہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَابْتَغِ فِےْمَآ اٰ تٰکَ اللّٰہُ الدَّارَ الْاَخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِےْبَکَ مِنَ الدُّنْےَا وَ اَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَےْکَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی آ لْاََرْضِ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا ےُحِبُّ الْمُفْسِدِےْنَ)

''اورجو کچھ اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں اس آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی احسان کرتا رہ اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ رہا کر بے شک اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔'' (القصص: 77)

 

حزب التحریر کا تعارف

حزب التحریر کے قیام کی وجہ:

            حزب التحریر ایک سیاسی جماعت ہے جس کی آئیڈیالوجی اسلام ہے۔اس کا قیام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس حکم کے تحت کیا گیاہے:

(وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّة یَدْعُونَ ِلَی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون)

''اور تم میں سے (کم از کم)ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہئے جو اسلام کی طرف دعوت دے، اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں''(اٰل عمرن: 104)

حزب التحریر کا مقصد:

            حزب التحریر کا مقصد امتِ مسلمہ کوکفریہ افکار،کفریہ نظاموں اور کافرریاستوںکے تسلط واثرورسوخ سے آزاد کرانا،اسلام کے نظام ہائے حیات کو زندگی میںواپس لانا اور اسلام کے پیغام کو پوری دنیا تک پھیلانا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان دوبارہ سے اپنی زندگی اس حال میں بسر کریں کہ ان کا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ہوں۔یعنی مسلمانوں کی ریاستِ خلافت موجود ہو جہاں زندگی کے تمام تر معاملات کو اسلام کے احکامات کے مطابق منظم کیا جائے۔اور اس طریقے سے ہی امتِ مسلمہ پستی کے گڑھے سے نکل سکے گی۔

حزب التحریر کی رکنیت:

             ہر مسلمان مرد اور عورت حزب التحریر کارکن بن سکتاہے خواہ اس کی زبان اوررنگ و نسل کوئی بھی ہواور اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔جب کوئی حزب التحریر کی دعوت پر حزب میں شمولیت اختیار کرنا چاہے تو جماعت میں اس کی شمولیت کی بنیاد اُس کے اسلامی عقیدے پر یقین اور حزب کی اسلام سے اخذشدہ ثقافت کو اپنانے پر ہے۔

            حزب میں عورتوں کی تنظیم سازی مردوں سے الگ ہوتی ہے اور اُن کا تعلق دوسری عورتوں یا ان کے شوہر یاپھر ان کے دیگرمحارم کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔

حزب التحریر کا کام:

             حزب التحریر ایک سیاسی جماعت ہے جس کی آئیڈیالوجی اسلام ہے۔دینِ اسلام لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کے لیے نازل کیا گیا ہے اور یہ وہ تمام قوانین مہیا کرتا ہے جن سے زندگی کے تمام تر معاملات کو چلایا جاسکے،خواہ ان کا تعلق نظامِ حکومت سے ہو، شعبۂ تعلیم سے ہویا پھر خارجہ امور سے ہو۔حزب التحریردنیا کی موجودہ کرپٹ صورتحال کو تبدیل کرنا چاہتی ہے، اور چاہتی ہے کہ صرف اسلام ہی کے ذریعے لوگوں کے امور کی دیکھ بھال کی جائے،ایسا صرف خلافت کے قیام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

             حزب التحریر خلافت کے قیام کا طریقہ رسول اللہ کی سیرت سے اخذ کرتی ہے، جنہوں نے مدینہ کے اندر پہلی اسلامی ریاست کو قائم کیا تھا۔

            پس حزب التحریر مسلمانوں پر نافذ کفریہ سرمایہ دارانہ نظام نیز معاشرے میں موجود غلط افکارو تصورات کے خلاف فکری جنگ کر رہی ہے تا کہ ان کی کج روی،غلطی اور اسلام کے ساتھ ان کے تضاد کو آشکارکیا جائے۔چنانچہ حزب جمہوریت، وطنیت،اشراکیت، سرمایہ دارانہ معاشی پالیسیوں کو سختی سے تنقید کا نشانہ بناتی ہے اور اس ضمن میں نہ تونرمی برتتی ہے اور نہ ہی سستی اور نہ ہی چشم پوشی سے کام لیتی ہے، بلکہ حزب ہر اس چیز کو چیلنج کرتی ہے، جو اسلامی افکارکے خلاف ہو۔

            اس فکری مخاصمت کے ساتھ ساتھ حزب سیاسی جدوجہد بھی کررہی ہے۔چنانچہ امتِ مسلمہ پرمسلط ایجنٹ حکمرانوں کو چیلنج کرنا، اُن کی خیانتوں اور استعماری ریاستوں کے ساتھ ان کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنا اور امت کے معاملات سے غفلت برتنے اور اسلام کو پسِ پشت ڈالنے پر ان کا محاسبہ کرنااس سیاسی جد وجہد کا حصہ ہیں۔

            چنانچہ حزب کا تمام تر کام سیاسی نوعیت کا ہے کیونکہ سیاست در حقیقت اسلامی احکامات کے مطابق لوگوں کے امور کی دیکھ بھال ہی کانام ہے۔چنانچہ حزب کاکام محض وعظ وارشاد کرنا یا تعلیم و تدریس کرنا نہیںہے۔

            ان سیاسی اعمال کا مقصد یہ ہے کہ امت کو فاسد تصورات،غلط اور کفریہ افکار و آراء کے اثر سے آزاد کیا جائے۔لوگوں کے جذبات و احساسات اسلام کی بنیاد پر استوار ہو جائیںاور حزب کے اختیار کردہ اسلامی افکار اور احکامات لوگوں کے درمیان عام ہو جائیں یوں معاشرے میں ایک ایسی رائے عامہ تیارہو جائے کہ جو معاشرے کو اسلام کے نفاذ اور اس کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونے پر آمادہ کردے اور حزب اسلام کے نفاذ میں امت کی رہنمائی کرے۔

            منہج نبوی ﷺ سے یہ امر واضح ہے کہ محض رائے عامہ اور جذبات و احساسات کی تبدیلی نظام کی تبدیلی کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کے لئے بہرحال ان عناصر سے مادی مدد و نصرت درکار ہوتی ہے جو ایک معاشرے میںنظام کو نافذ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔چنانچہ حزب عوام کو سیاسی طور پر متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اہلِ قوت عناصر کو پرزور انداز میں خلافت کے قیام میں مدد و نصرت دینے کے لئے پکارتی ہے کہ وہ حزب کو خلافت کے قیام کے لیے عملی نصرت و مدد فراہم کریں اور ان استعماری ایجنٹوں سے امت کو نجات دلانے کے لیے حرکت میں آئیں۔

             یہی وجہ ہے کہ استعماری طاقتوں کے اشارے پر اسلامی دنیا کے یہ ایجنٹ حکمران حزب کی اس جد وجہد کوسختی سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے حزب کے شباب کو قید وبند،تشدد، ملک بدری، جائیداد پر قبضہ، سہولتوں سے محرومی، سفرپر پابندی جیسی تکالیف اور سزاؤں سے دو چار کیا۔حتیٰ کہ عراق، شام،لیبیا اور ازبکستان کے ظالم حکمرانوں نے حزب کے سینکڑوں شباب کو قتل کیا۔

            کفار حزب التحریر کی اس پھیلتی ہوئی دعوت کو روکنے کے لیے مسلسل غور و خوض کر رہے ہیں۔وہ حزب کے خلاف منصوبہ بندی کے لیے کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کر رہے ہیں جیسا کہ امریکہ نے انقرہ میں کانفرنس منعقد کی اور اسی طرح امریکہ کے نکسن انسٹیٹیوٹ، ہیر ی ٹیج انسٹیٹیوٹ نیز انٹر نیشنل کرائسز گروپ اور امریکی سی آئی اے حزب التحریر کے متعلق رپورٹیں مرتب کر چکے ہیں۔کافر ممالک حزب التحریر پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں اگرچہ حزب التحریر ایک سیاسی جماعت ہے اور یہ عسکری کاروائیاں نہیں کرتی۔

            ان تمام تر رکاوٹوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کے باوجودحزب اپنی کوشش کو اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھتے ہوئے سنجیدگی، استقامت و مستقل مزاجی کے ساتھ سرانجام دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ حزب اور امتِ مسلمہ کو کامیابی وکامرانی اور نصرت سے نوازے گا۔انشاء اللہ وہ وقت اب دور نہیں۔اور اس روز مؤمن اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے۔

 نظامِ خلافت کا نقشہ:

            حزب التحریر کی دعوت فقط نعروں پر مشتمل نہیں بلکہ حزب نے اس نظامِ خلافت کا ایک مکمل خاکہ تیار کیا ہے، جسے وہ قائم کرنا چاہتی ہے، اور یہ خاکہ کئی ضخیم کتابوں کی شکل میں موجود ہے۔یہ منشور جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے،اسے انہی کتابوں سے اخذ کیا گیا ہے۔حزب کی شائع کردہ کتابوں میں کچھ کے نام یہ ہیں:

اسلام کا نظامِ حکومت

ریاستِ خلافت کے ڈھانچوں کی تنظیم

اسلام کا معاشرتی نظام

اسلام کا معاشی نظام

 ریاستِ خلافت کا مالیاتی نظام

اسلام کا سزائوں کا نظام

اسلام کے گواہی سے متعلق قوانین

مقدمہ دستور

            یہ کتابیں حزب التحریر کی ویب سائیٹ www.hizb-ut-tahrir.orgسے ڈائون لوڈ کی جاسکتی ہیں۔

حزب التحریر کی مختصر تاریخ:

            حزب التحریر کا قیام 1953ء بمطابق1372ھ میں عمل میں آیا۔اس کے بانی علامہ تقی الدین النبہانی تھے، جو اپنے دور کے معروف مجتہد اوربیت المقدس میںقاضی اور ایک قابل سیاست دان تھے۔ان کا تعلق ایک معروف علمی گھرانے سے تھا۔آپ کے والد اور والدہ دونوں ماہرِ قانون تھے۔شیخ تقی کے نانا یوسف بن اسماعیل بن یوسف النبھانی معروف عالم دین، شاعر اور خلافتِ عثمانیہ میں قاضی کے عہدے پر فائزتھے۔شیخ تقی الدین 1953ء سے لے کر 1977ء تک حزب التحریر کی قیادت کرتے رہے۔

            1977ء میں شیخ تقی الدین النبھانی کی وفات کے بعد شیخ عبدالقدیم زلّوم حزب التحریر کے دوسرے امیر مقرر ہوئے۔اللہ کی مدد سے آپ کی قیادت تلے حزب التحریر کا دائرہ کار پوری دنیا میں تیزی سے پھیلااور لاکھوں لوگ اس میں شامل ہوگئے اور اس کے سپورٹرزکی تعدادکروڑوںتک پہنچ گئی۔چنانچہ ان کی قیادت میں حزب التحریر مسلم ممالک سمیت دنیا کے چالیس سے زائد ممالک میں پھیل گئی اور حزب التحریر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سیاسی جماعت بن گئی،جو خلافت کے قیام کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔2003ء میں شیخ عبد القدیم زلوم کا انتقال ہو ا۔

            حزب التحریر کے موجودہ امیر شیخ عطا ابو رشتہ نے اپنی ذمہ داریاں 2003ء میں سنبھالیں۔ان کا تعلق بھی فلسطین سے ہے۔آپ ایک معروف عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ سول انجینئر بھی ہیں۔آپ اپنی نوعمری سے ہی حزب التحریر کے ساتھ منسلک ہوگئے تھے اور آپ کا شمار شیخ زلوم کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔آپ اُردن میں حزب التحریر کے ترجمان بھی رہے اور اس دوران ظالم حکمرانوں کی طرف سے آپ کو کئی بار جیل کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں، فقط اس بات پر کہ آپ بے باکی سے کلمہ حق ادا کرتے تھے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کی طرف سے آپ کو ''ضمیر کا قیدی'' کا خطاب بھی دیا گیا۔

            خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کی پکار امتِ مسلمہ کے درمیان زور پکڑ چکی ہے۔2007ء میں حزب التحریر نے انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں، دنیا کے دسویں بڑے سٹیڈیم میں، خلافت کے دوبارہ قیام کے سلسلہ میں سب سے بڑی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔

 

حزب التحریر ولایہ پاکستان کی طرف سے

پاکستان کے مسلمانوں کو پُرزور دعوت

             28 رجب 1342 ہجری (بمطابق 3 مارچ 1924)کوکافر برطانیہ نے اپنے ایجنٹ مصطفٰی کمال ''اتاترک'' کے ذریعے استنبول میں اسلامی خلافت کا خاتمہ کر دیا،جس کے بعد اسلامی ممالک میں استعماری کفار کا اثر و رسوخ قائم ہو گیا۔کفار نے اُمت ِ مسلمہ کو چیر پھا ڑ کر61ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا،جو آج اسلامی ممالک کہلاتے ہیں،اور ان میں سے ہر ملک پر اپنے ایجنٹوں کوبطورِ حکمران مقرر کر دیا، جو ان کے اشاروں پر چلتے تھے اور ان کا حکم بجا لاتے تھے۔غلامی کی یہ صورتِ حال اب بھی بدستور قائم ہے۔یہ حکمران اپنے اقتدار کی خاطر مسلمانوں کے علاقوں اور وسائل کا سودا کر رہے ہیں اور ان پر ایسے نظام کو نافذ کر رہے ہیں جو کفار کے مفادات کو پورا کرتا ہے۔

             خلافت کے انہدام کے بعد سانحے اور مصیبتیںبارش کے قطروں کی مانندمسلمانوں کے علاقوں پر برسنے لگیں۔چنانچہ خلافت کے انہدام کے بعد برطانیہ نے فلسطین کی بابرکت سرزمین کویہودیوںکے حوالے کر دیا۔اوراسی برطانیہ نے انڈیا کی اسلامی سرزمین کے زیادہ تر حصے کو ہندوئوں کی عملداری میں دے دیا جبکہ ایک چھوٹا پسماندہ حصہ پاکستان کی شکل میںمسلمانوں کی جھولی میں ڈال دیاگیا۔پھر برطانیہ نے کشمیر کا زخم لگایا تاکہ امتِ مسلمہ کے جسم سے لہو رِستہ رہے۔اس وقت سے آج تک کشمیر کے مسلمان بھارتی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں۔دوسری طرف سوویت یونین نے وسط ایشیا کے ہزاروں مسلمانوں کو قتل اور علاقہ بدر کر دیا۔اور ابھی بھی روس چیچنیا میں مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر رہا ہے۔اور اب امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے، عورتوں کی عصمت دری کر رہا ہے، اور نوجوانوں، بچوں اور بوڑھوں کو شہید کر رہا ہے۔کفار کی جسارت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ مسلمانوں کے عقیدہ پر براہِ راست حملہ آور ہو گئے ہیں۔وہ کھلم کھلارسول اللہ ﷺ کی عزت پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور قرآنِ مجید کے متعلق گھٹیا فلمیں بنا رہے ہیں۔

            اے مسلمانو! بلاشبہ خلافت کے انہدام کے بعد آپ دنیا میں ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئے ہیں۔دنیا کی اقوام مسلمانوں کے خلاف جمع ہو گئی ہیں اورآپ ہر لالچی اور ہوس زدہ ریاست کے لیے مالِ غنیمت بن گئے ہیں۔اور آپ کے علاقے مختلف اقوام کی آپس کی محاذ آرائی کا میدانِ کارزار بن گئے ہیں۔مسلمان اپنے ہی ملک میں اجنبی ہو گیا ہے جہاں اس کا پیچھا کیا جاتا ہے،اسے گرفتار کیا جاتا ہے اور اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا جاتا ہے،محض اس وجہ سے کہ وہ کلمہ حق بلند کرتا ہے۔

             بلاشبہ اس صورتِ حال سے نجات حاصل کرنے کے لیے آپ کے پاس خلافت کے قیام کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔آپ ہر طرح کے نظاموں کا تجربہ کر کے دیکھ چکے ہیں۔لیکن کوئی بھی نظام آپ کے مسائل کو حل نہیں کر سکا۔اور آپ ان تمام سیاسی قیادتوں کو آزما چکے ہیں، لیکن کوئی بھی آپ کو استعماری کفار کے تسلط سے نجات نہیں دلا سکا۔پس اب آپ اس نظام کی طرف لوٹ آئیں جو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔اور اس قیادت کے گرِد جمع ہو جائیں جو اسلام سے آپ کے مسائل کے درست حل یعنی خلافت کی طرف آپ کی رہنمائی کررہی ہے۔جی ہاں! حزب التحریر،جومنہج نبوی پر کاربند ہوتے ہوئے، خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لئے نہایت سنجیدگی اورتندہی کے ساتھ مسلسل کا م کر رہی ہے۔وہ خلافت جو پوری دنیا میں خیر و عدل کا مینارۂ نور ہو گی۔

             رسول اللہ ﷺ نے امتِ مسلمہ کو یہ بشارت دی ہے کہ خلافت کے انہدام کے بعد نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت دوبارہ قائم ہو گی۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((تکون النبوة فیکم ما شاء اللّہ ن تکون، ثم یر فعھا اللّہ ذا شاء ن یرفعھا۔ثم تکون خلافة علی منھاج النبوة، فتکون ما شاء اللّہ ن تکون، ثم یر فعھا ذا شاء ن یرفعھا۔ثم تکون ملکاً عاضاً، فتکون ما شاء اللّہ ن تکون، ثم یرفعھاذا شاء اللّہ ن یرفعھا۔ثم تکون ملکاً جبریة، فتکون ما شاء اللّہ ن تکون، ثم یر فعھا ذا شاء ن یرفعھا۔ثم تکون خلافة علی منھاج النبوة)) '' تمہارے اندردورِ نبوت موجود رہے گاجب تک اللہ چاہے گا،پھر جب اللہ اسے ختم کرنا چاہے گا تو اسے ختم کر دے گا۔پھرنبوت کے نقشِ قدم پر خلافت قائم ہو گی جو(اس وقت تک) رہے گی جب تک اللہ چاہے گا، پھر جب اللہ اسے ختم کرنا چاہے گا تو اسے ختم کر دے گا۔پھرموروثی حکومت کا دور ہو گا جو(اس وقت تک) رہے گا جب تک اللہ چاہے گا، پھر جب اللہ اسے ختم کرنا چاہے گا تو اسے ختم کر دے گا۔پھرجابرانہ حکومت کا دور ہو گا جو(اس وقت تک) رہے گا جب تک اللہ چاہے گا، پھر جب اللہ اسے ختم کرنا چاہے گا تو اسے ختم کر دے گا۔پھرنبوت کے نقشِ قدم پر دوبارہ خلافت قائم ہو گی۔'' (مسند احمد)

            بے شک ہمارے لیے یہ بات تسکین اور اطمینان کا باعث ہے کہ اللہ کے اذن سے خلافت جلد لوٹنے والی ہے، اُس سے بہت جلد جتنا بعض لوگ گمان کرتے ہیں۔تاہم ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ فرشتے خلافت کولے کر آسمان سے نازل نہیں ہوں گے بلکہ ایسا ثابت قدمی اور مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے ہی ہو گا، جس جدو جہد کو کرنے والا داعی اللہ کی رضا کے سوا کسی اور بدلے کا طلب گار نہ ہو۔

            اورجہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو خلافت کے قیام کی راہ میں کھڑے ہیں اوراپنے مفادات اور عہدے کی خاطراور اپنے آقا کافر استعمار کو راضی کرنے کے لیے خلافت کے قیام کے خلاف برسرِپیکارہیں تو ان کا انجام یہ ہے کہ وہ آخر کارمٹ جائیں گے،ان کے تخت و تاج باقی نہیں رہیں گے اور وہ اللہ کے حکم سے ذلیل و رسواہو کر اپنے اقتدار سے بے دخل ہوں گے، اور ان کی حالت وہی ہو گی جس کا قرآن کریم نے تذکرہ کیا ہے:

(کَمْ تَرَ کُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ وَّنَعْمَةٍ کَانُوْا فِیْھَا فٰکِھِیْنَ کَذٰ لِکَ قف وَاَوْرَثْنٰھَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ فَمَا بَکَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ)

''وہ بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے۔اور آرام کی وہ چیزیں جن میں وہ عیش کر رہے تھے۔اسی طرح ہوا، اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنا دیا۔سو نہ تو ان پر آسمان رویا اور نہ ہی زمین، اور نہ ہی انہیں مہلت ملی''(الدخان: 25-29)

            چنانچہ حزب التحریرآپ کو دعوت دیتی ہے کہ آپ خلافت کے قیام کی اس جدوجہد میں اس کے ساتھ شامل ہو جائیں۔حزب التحریرمیں شمولیت اختیار کرنا مشکل نہیں۔آپ اس سلسلے میں حزب کے میڈیا آفس اور حزب کے شباب سے رابطہ کر سکتے ہیں جو آپ تک اس دعوت کو پہنچا رہے ہیں۔اور حزب التحریر مسلم افواج کو پکارتی ہے کہ وہ حزب التحریر کو نصرت دیں تاکہ خلافت کو قائم کیا جائے۔پس آپ خلافت کے قیام کے اس عظیم فرض کی ادائیگی کے لیے جلدی کریں۔اس سے پہلے کہ خلافت قائم ہو جائے اور آپ اس عظیم اجر سے محروم رہ جائیں! فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، تو کیا آپ جواب دیں گے!!

(یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوااسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَایُحْیِیْکُمْ)

''اے ایمان والو! اللہ اوررسول ﷺ کی پکار پر لبیک کہو،جب وہ تمہیں اُس چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہارے لیے زندگی ہے۔'' (الانفال:٢٤)

 

پاکستان،خلافت اور مسلم دنیا کی وحدت

            مجموعی طور پر روئے زمین پر موجود کسی بھی دوسری قوم سے زیادہ رقبے، مادی وسائل، افرادی قوت اور ذہین افراد رکھنے کے باوجود مسلمان آج انتہائی کمزور اور پست حالت میں ہیں۔وہ ساٹھ سے زیادہ ممالک میں تقسیم ہیں اوران کا اپنے امور پر اختیار اُن ممالک سے بھی کم ہے جو اس قدر چھوٹے ہیں کہ دنیا کے نقشے پر بمشکل دکھائی دیتے ہیں۔

            پاکستان اس صورتِ حال سے مستثنا نہیں۔دنیا کی ساتویں بڑی فوج، ایٹمی ہتھیار، چھٹی بڑی آبادی اور زرخیز زرعی میدان اور مختلف انواع کی معدنیات رکھنے کے باوجود پاکستان کی صورتِ حال یہ ہے کہ وہ محض بیرونی طاقتوں کے ارادوں اور منصوبوں کا غلام ہے اور اپنی قابلیتوں کو احسن طریقے سے بروئے کار لانے سے قاصر ہے۔

            وہ بنیادی مسئلہ جس سے امتِ مسلمہ دوچار ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا اقتدارِ اعلیٰ امت کی زندگی سے غائب ہے۔بلاشبہ اگر ایک یا ایک سے زائد مضبوط مسلم ممالک ریاستِ خلافت کی شکل میں یکجا ہو جائیںکہ جہاں پر اسلام کو نافذ کیا جائے، تو یہ امر پورے عالمِ اسلام کو دنیا کی طاقتور ترین ریاست کی شکل میں دوبارہ وحدت بخشنے کا نقطۂ آغاز ہو گا۔

            اس منشور میں حزب التحریرولایہ پاکستان اس عظیم تبدیلی کا خاکہ پیش کر رہی ہے جو ریاستِ خلافت کے قیام کے نتیجے میں پاکستان اور عالمِ اسلام میں رونما ہو گی۔حزب التحریر دنیا کے چالیس سے زائد ممالک پر پھیلا ہوا وہ سیاسی پلیٹ فارم ہے جو خلافت کے قیام کے لیے ایک عالمگیر تحریک برپا کیے ہوئے ہے۔لہٰذا ہر وہ مسلمان جو کہ امتِ مسلمہ کی صورتِ حال کی تبدیلی میں سنجیدہ ہے، حزب التحریر اسے دعوت دیتی ہے کہ وہ خلافت کے قیام کے عظیم فرض کی ادائیگی کے لیے اس عالمی پلیٹ فارم کا حصہ بن جائے۔

www.hizb-pakistan.com






Add comment to this page:
Your Name:
Your message: